غریب علاقے میں امیروں کی دوکان پر احتجاج

Image caption اس کیفے میں دو سو اقسام کے سیریل بیچے جاتے ہیں

سیریل کلر نامی کیفے کے مالکان کا اکثر وقت دو سو مختلف اقسام کے سیریل بیچنے میں گزرتا ہے۔

لندن کے ایک فیشن ایبل علاقے میں واقع اس کیفے کے زیادہ تر گاہک ماڈرن نوجوان لوگ ہیں۔

لیکن گزشتہ ہفتے انھیں اور ان کے گاہکوں کو اپنے آپ کو کیفے کے اندر بند کر کے پولیس کو بلانا پڑا تھا کیونکہ کئی درجن افراد ڈنڈے اور شمعیں اٹھائے کیفے کے دروازے پر جمع ہو کر احتجاج کر رہے تھے۔

احتجاج کرنے والے افراد کا موقف تھا کہ ایک نسبتاً غریب علاقے میں مہنگا کھانا بیچنا علاقے کے لیے ایک خطرے کی مانند ہے کیونکہ لندن میں عدم مساوات میں اضافہ ہوا ہے اور متوسط طبقے کے لوگوں کے لیے گھر لینا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔

احتجاج کرنے والوں کا موقف ہے کہ اس طرح کے کاروبار کھلنے سے علاقے میں کرایوں میں اضافہ ہوتا ہے اور علاقے میں مقامی لوگوں کے لیے رہنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

لندن میں کافی عرصے سے یہ بحث چل رہی ہے کہ عام علاقوں میں زیادہ آمدنی والے افراد کی آمد سے علاقے میں جائیداد کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے اور علاقے میں مہنگائی بڑھتی ہے جس کے باعث مقامی لوگوں کو وہاں سے جانا پڑتا ہے۔

اس کیفے کا جہاں ناشتے میں کھائے جانے والے سیریل دن بھر خریدے جا سکتے ہیں، افتتاح گذشتہ برس ہوا تھا اور اسی وقت اکثر ذرائع ابلاغ نے اس کے بارے میں خبر دی تھی۔

اس کیفے کے مالک دو بھائی ایلن اور گیری ہیں انھوں نے گزشتہ برس برک لین نامی علاقے میں اپنا کیفے کھولا تھا۔

کیفے میں دنیا بھر سے درآمد کیے گئے مختلف برانڈ کے سیریلز کو انواع اقسام کے دودھ کے ساتھ ملا کر بیچا جاتا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوے کیفے کے مالکان کا کہنا تھا کہ ’مشہور ہونے کی وجہ سے ہمیں نشانہ بنایا جاتا ہے حالانکہ مسائل کی وجہ ہم نہیں ہیں۔‘

گزشتہ ہفتے ہونے والے احتجاج کا انعقاد ’کلاس وار‘ یعنی طبقات کی جنگ نامی گروپ نے کیا تھا۔

اس گروپ کا موقف ہے کہ غریب علاقوں میں مہنگی دکانیں اور کاروبار کھلنے سے مقامی لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ اس سے علاقہ آہستہ آہستہ متوسط طبقے کی دسترس سے باہر ہو جاتا ہے۔

سماجی رابطوں کی سائٹس پر جاری کیے گئے اپنے پیغامات میں گروپ کا کہنا ہے کہ وہ لندن کے متوسط طبقے والے علاقوں میں کھلنے والے امیروں کے کاروباروں کو بند کرنا چاہتے ہیں۔

کیفے کے خلاف کیے جانے والے احتجاج میں شامل ول ہاروی نامی شخص کا کہنا تھا کہ ’اس علاقے میں 49 فیصد لوگ غریب ہیں یہاں پر بڑی تعداد میں لوگ اشیائے خوردو نوش کے لیے خیراتی مراکز پر انحصار کرتے ہیں لیکن یہاں کے نئے مکین یہ سمجھتے ہیں کہ بچوں میں مقبول سیریل کا ایک پیالہ پانچ پاونڈ میں بیچنا جائز ہے۔‘

Image caption سماجی رابطوں کی سائٹس پر جاری کیے گئے اپنے پیغامات میں گروپ کا کہنا ہے کہ وہ لندن کے متوسط طبقے والے علاقوں میں کھلنے والے امیروں کے کاروباروں کو بند کرنا چاہتے ہیں

جبکہ دوسری جانب ایسے علاقوں میں نئے کاروبار کھولنے اور پراپرٹی خریدنے والوں کا موقف ہے کہ اس سے علاقے میں ترقی ہوتی ہے اور لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی میسر آتے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ جب ایک علاقے میں گھر خریدنا یا کرائے پر لینا مقامی لوگوں کی دسترس سے باہر ہو جاتا ہے تو وہ کہاں جاتے ہیں اور اس کا سماجی ہم آہنگی پر کیا اثر پڑتا ہے۔

اگرچہ لندن میں بعض لوگ متوسط طبقے کے علاقوں میں امیر لوگوں کی جانب سے کاروبار کرنے یا پراپرٹی خریدنے کو منفی نظر سے دیکھتے ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے بہت سے مختلف اور پیچیدہ اثرات نکلتے ہیں۔

علاقے میں آنے والی سرمایہ کاری، جرائم میں کمی اور بڑھتی ہوئی اقتصادی سرگرمیوں کو یقیناً حقیقی سماجی ترقی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

لیکن دوسری جانب مقامی لوگوں کے لیے علاقے میں رہنا مشکل ہو جاتا ہے جسے کسی طور پر بھی مثبت پیش رفت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

گزشتہ برس اکانومسٹ اخبار نے لندن کی بدلتی ہوئی صورتحال کے حوالے سے جائزہ لے کر یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ غریب علاقوں میں امیروں کی آمد کا سلسلہ جاری رہے گا اور اب اسے روکا نہیں جاسکتا۔

دوسری جانب کلاس وار گروپ امیروں کو غریب علاقوں سے نکالنے کے لیے پر عزم ہے۔