کیوبا کا امریکہ سے تجارتی پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اپنے بھائی فیدل کاسترو سے اقتدار حاصل کرنے کے بعد سے صدر کاسترو کا اقوام متحد کی جنرل اسمبلی سے یہ پہلا خطاب تھا اور ان کی باتوں پر بھی ارکان نے جم کر تالیاں بجائیں

کیوبا کے صدر راؤل کاسترو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ معمول کے رشتے تبھی ممکن ہیں جب امریکہ تجارتی پابندیوں کے خاتمے سمیت کئی دیگر ضروری اقدامات کرے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کے لیے ضروری ہے کہ کیوبا کی گوانتنامو بے میں قائم اپنا فوجی اڈہ کیوبا کو واپس کرے اور علاقے میں اپنی کمیونسٹ مخالف نشریات بند کردے۔

ادھر امریکی صدر باراک اوباما نے بھی کیوبا پر عائد تجارتی پابندیوں کو ختم کرنے کی بات کی اور کہا کہ انہیں امید ہے کہ امریکی کانگریس جلد ہی پابندیاں ختم کردے گی۔

توقع ہے کہ منگل کے روز نیو یارک میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات ہوگی۔

پیر کو جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں صدر اوباما نےکہا تھا کہ ان کا خیال کہ رپبلکن پارٹی کی اکثریت والی کانگریس لامحالہ ان ’ پابندیوں کو ختم کر دیگي جن کی اب کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘

امریکی انتظامیہ کیوبا پر عائد پابندیوں کے خاتمے کی حامی ہے لیکن امریکی کانگریس میں اس پر تحفظات پائے جاتے ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ کیوبا سے متعلق امریکی پالیسیاں ’کیوبا کے عوام کی زندگياں بہتر کرنے میں پوری طرح ناکام ثابت ہوئی ہیں۔‘ اور ہوانا کے ساتھ رشتے بہتر کرنے میں انسانی حقوق کے مسائل اب بھی تشویش کا باعث ہیں۔

صدر اوباما کی ان باتوں پر 193 ممالک پر مشتمل جنرل اسمبلی میں زبردست تالیاں بجیں۔

کیوبا پر سنہ 1960 سے پابندیاں عائد ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان رشتے استوار کرنے میں اب بھی یہی پابندیاں بڑی روکاوٹ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اوباما اور کاسترو کے درمیان بات چیت کے لیے منگل کو نیو یارک میں ملاقات ہوگی

صدر کاسترو نے کہا کہ اب جبکہ سفارتی تعلقات قائم ہوگئے ہیں تواجتماعی طور رشتے اسی صورت بہتر ہوسکتے " اقتصادی، تجارتی اور مالی ناکہ بند ختم کر دی جائے۔'

2006 میں اپنے بھائی فیدل کاسترو سے اقتدار حاصل کرنے کے بعد سے صدر کاسترو کا اقوام متحد کی جنرل اسمبلی سے یہ پہلا خطاب تھا اور ان کی باتوں پر بھی ارکان نے جم کر تالیاں بجائیں۔

وائٹ ہاؤس نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ صدر اوباما کیوبا کے اپنے ہم منصب صدر کاسترو کے ساتھ منگل کو نیو یارک میں بات چیت کریں گے۔

گذشتہ اپریل میں پناما میں پہلی بار ملنے کے بعد دونوں رہمناؤں کی یہ دوسری ملاقات ہوگی۔

اگلے ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی پابندیوں پر نکتہ چینی کرنے کے لیے ایک ایسی نئی قرارداد کے مسودے پر بحث ہونے والی ہے جس میں امریکہ پر نکتہ چینی کی گئی ہے۔

اسمبلی نے سنہ 1982 سے ایسی قراردادوں کی حمایت کی ہے جس میں امریکہ سے تجارتی پابندیاں ختم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔

اسی بارے میں