منیٰ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پر تنازع

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption نائجیریا، انڈونیشیا، بھارت اور پاکستانی حکام کے مطابق منیٰ کے ہلاک شدگان کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے

سعودی عرب میں حج کے دوران منٰی کے مقام پر بھگدڑ میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں تنازع پیدا ہوگیا ہے۔

سعودی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 769 ہے مگر متعدد ممالک کے حکام کے مطابق اس حادثے میں ہونے والی ہلاکتیں ایک ہزار سے زیادہ ہیں۔

’سعودی عرب واقعے کی ذمہ داری قبول کرے اور معافی مانگے‘

’منیٰ جیسے واقعات انسانی اختیار سے باہر ہیں‘

نائجیریا کے حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایک ہزار سے زیادہ لاشیں منیٰ سے جدہ کے مردہ خانوں میں پہنچائی گئی ہیں۔

اس کے علاوہ انڈونیشیا، بھارت اور پاکستان کے حکام کے مطابق بھی ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے۔

نائجیریا میں حج مشن کے ایک اہلکار نے بی بی سی کے یوسف ابراہیم یکاسائی کو بتایا ہے کہ وہ جدہ گئے تھے جہاں لاشوں کو شناخت کے لیے لایا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ 14 ٹرکوں کے ذریعے لاشوں کو جدہ منتقل کیا گیا اور صرف 10 ٹرکوں سے 1075 لاشوں کو اتار کر مردہ خانے منتقل کیا گیا جبکہ چار ٹرکوں میں موجود لاشوں کی تعداد میں بارے میں انھیں اندازہ نہیں۔

پاکستانی حکام نے پیر کو کہا تھا کہ انھیں حادثے میں 1100 افراد کی ہلاکت کے بارے میں مطلع کیا گیا ہے جبکہ بھارت کی وزیر خارجہ کے مطابق سعودی حکام نے ہلاک ہونے والے 1090 زائرین کی تصاویر جاری کی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ایران میں سعودی سفارت خانے کے باہر مظاہرے ہوئے ہیں

ہلاکتوں کی صحیح تعداد پر سعودی حکام کے بیان کا انتظار کیا جا رہا ہے کیونکہ دنیا بہت سے ممالک اپنے شہریوں کی تلاش کرنے میں پریشان کا سامنا ہے۔

ادھر امریکی نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق انڈونیشیانے سعودی عرب پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈونیشیا کے سفارتی عملے کو واقعے کے کئی دن بعد زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں تک رسائی دی گئی۔

انڈونیشیائی وزارت خارجہ کے اہلکار لالو محمد اقبال کے مطابق ’سعودی حکام نے انڈونیشیا کے حکام کو پیر کی رات ہلاک ہونے والوں تک مکمل رسائی کی اجازت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعےمیں 46 انڈونیشی ہلاک ہوئے جبکہ 90 ابھی تک لاپتہ ہیں۔‘

انڈونیشیا میں مذہبی امور کے وزیر لقمان حاکم سیف الدین نے پیر کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ان معاملات سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب کی حکومت کے اپنے قوانین، روایات، اقدار اور طریقۂ کار ہیں، جن کی وجہ سے ہمیں اپنے زخمیوں کو پہچاننے کی کوششوں میں مکمل آزادی حاصل نہیں تھی۔‘

اے پی کے مطابق منگل کو ایرانی سرکاری ٹیلیویژن نے اپنے نائب وزیر خارجہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران سعودی عرب کو ایرانی حاجیوں کو مکہ میں دفنانے کی اجازت نہیں دے گا۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق اس سانحے میں کم از کم 228 ایرانی ہلاک ہوئے جبکہ 248 ابھی تک لاپتہ ہیں۔

اسی بارے میں