دولتِ اسلامیہ سے روابط پر 35 افراد اور گروہوں پر پابندیاں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بان کی مون نے کہا کہ سماجی رابطوں کی سائٹس پر دولتِ اسلامیہ کے پروپیگینڈا کا مقابلہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔

امریکہ نے دولتِ اسلامیہ سے منسلک 35 افراد اور گروہوں پر پابندیاں عائد کر دی ہے تاکہ تنظیم کی امداد بند کی جا سکے۔

امریکہ نے چار برطانوی اور تین فرانسیسی شہریوں سمیت روس کے کچھ لوگوں اور گروہوں کو غیر ملکی شدت پسند جنگجوؤں کے زمرے میں شامل کیا۔

یہ اعلان اسی دن ہواجب امریکہ کے صدر اوباما نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آخر میں دولت اسلامیہ سے نمٹنے کے لیے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا کہ یہ گروہ آخر کار ختم ہو جائے گا کیونکہ یہ صرف موت اور مشکلات ہی کا باعث بنا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا کہ سماجی رابطوں کی سائٹس پر دولتِ اسلامیہ کے پروپیگینڈا کا مقابلہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس تنظیم کے نغموں میں جانبازی اور معنویت کا وعدہ کیا جاتا ہے لیکن محض دہشت اور مصائب دیے جاتے ہیں۔

صدر اوباما نے کہا کہ دولتِ اسلامیہ کو شام میں ہرانا تبھی ممکن ہو پائے گا اگر صدر بشار الاسد اقتدار چھوڑ دیں۔

روس، جو اس ماہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا صدر ہے، وہ انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے اجلاس بھی منعقد کر رہا ہے۔

منگل کو روس نے اقوام متحدہ میں امریکہ کے انتہا پسندی کے خاتمے سے متعلق کانفرنس پر یہ کہہ کر تنقید کی تھی کہ اس کانفرنس کا مطلب ہے خود اقوام متحدہ کے اس حوالے سے کوششوں کو کم قرار دے رہا ہے۔

اس کے علاوہ فرانس کے وزیر خارجہ نے کہا کہ روس نے دولتِ اسلامیہ پر حملہ کرنے کی بات تو بہت کی ہے لیکن ابھی تک اس تنظیم کے خلاف کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا ہے۔

اسی بارے میں