گھر سے ہزاروں میل دور ماں کو بیٹے کی تلاش کا سفر

Image caption ’مجھے یہ سفر کرنے پر افسوس ہے۔ اگر مجھےحالات کا ذرا بھی اندازہ ہوتا تو میں کبھی نہیں آتی‘

مہاجرین اور پناہ گزینوں کی شمالی یورپ تک پہنچنے کی جدوجہد خطرات سے بھری ہے۔

اس پرُخطر سفر میں خاندان بچھڑ سکتے ہیں اور اِنھیں دوبارہ سے ملانا تقریباً ناممکن نظر آتا ہے۔ جیسا کہ جان سوئنی جو ہنگری میں ایک شامی خاتون سے ملے جو اپنے لخت جگر کو ڈھونڈنے کے لیے اپنی جان جوکھوں میں ڈالنے کے لیے تیار تھی۔

ٹرین کی کھڑکی سے ٹیک لگائے بیٹھی اس عمر رسیدہ خاتون کے چہرے سے غم جھلک رہا تھا۔

’ماں کے بغیر نیند نہیں آتی‘: ویڈیو رپورٹ

پناہ گزینوں کی یادگار تصاویر

’یورپی سرحدوں کو پناہ گزینوں سے خطرہ ہے‘

پناہ گزینوں کو جرمن شہریوں سے کیا توقعات: ویڈیو رپورٹ

فاخرہ نے مجھے اپنی کہانی رک رک کر اور مختصر کر کے بیان کی۔ مجھے اُس خطرے کا مکمل احساس ہوا جس کا اُنھوں نے سامنا کیا جب وہ آسٹریا کے ساتھ ہنگری کی سرحد پرگر گئی اور مجھے خوف تھا کہ وہ مر سکتی ہیں۔ لیکن یہ میں آپ کو بعد میں بتاؤں گا۔

اگرچہ میں ہنگری میں سفر کر رہا تھا اور اس 2100 کلومیٹر طویل راستہ پر گامزن تھا، جس کو لوگ یونان کے جزیرے کوس سے وسطیٰ یورپ تک پہنچنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دولتِ اسلامیہ سے لڑائی کے دوران کوبانی ملبے کا ڈھیر بن گیا

فاخرہ نے بتایا کہ ’ایمانداری کی بات یہ ہے کہ مجھے یہ سفر کرنے پر افسوس ہے۔ اگر مجھےحالات کا ذرا بھی اندازہ ہوتا تو میں کبھی نہیں آتی۔‘

میں اندازہ لگا سکتا ہوں کہ فاخرہ 60 کی دہائی میں قدم رکھ چکی ہیں وہ سر پر سیاہ سکارف اور سادہ فراک پہنے تھی۔ اُن کے پاس بیگ یا اِس قسم کی کوئی چیز نہیں تھی۔

اُنھوں نے مجھے بتایا کہ اُن کا تعلق شام کے علاقے کوبانی سے ہے جو اب خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی تنظیم اور امریکی حمایت یافتہ کرد جنگجوؤں کے درمیان جاری جنگ کے باعث ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption یورپ میں پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد شام سے آئی ہے

اِس گرمیوں میں اُن کے پورے خاندان نے شام چھوڑنے اور ڈنمارک میں اپنے رشتہ داروں کے پاس جانے کا فیصلہ کیا۔

فاخرہ نے سفر کا آغاز اپنے بیٹے محمد، اپنے بھائی اور ان کے اہلخانہ کے ہمراہ کیا تھا۔

اُن کا راستہ اُنھیں ہنگری لے آیا لیکن اُنھوں نے ایک غلط افواہ سنی تھی کہ اگر ہنگری کے حکام اُن کے پاسپورٹ پر مہر لگادیں گے تو ان کا جرمنی تک کا سفر تمام ہو جائے گا اور وہ کسی دوسری جگہ نہیں جا سکیں گے۔

ہنگری کے حکام کی جانب سے مہر لگنے کا خوف ڈنمارک جانے کے مقصد کو ختم کر سکتا تھا۔ اُن کا خاندان ہنگری میں ہی غائب ہوگیا اور رات کے وسط میں چھ گھنٹے تک جنگل میں سفر کرتا رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دولتِ اسلامیہ سے لڑائی کے دوران کوبانی ملبے کا ڈھیر بن گیا

فاخرہ کا کہنا تھا کہ’میں بہت زیادہ تکلیف میں تھی۔ میں تھک چکی تھی۔ اور اس سب کے آخر میں پولیس نے ہمیں گرفتار ک رکے بند کر دیا۔ پھر میں نے اپنے آپ سے کہا کہ ’یہاں آنے سے اپنے ملک میں رہنا بہت بہتر تھا۔‘

’آسمان سے بارش برس رہی تھی۔ میرے پوتا رو رہا تھا وہ بیمار تھا اُسے علاج کی ضرورت تھی۔ ہم نے اُنھیں کہا کہ ’بچہ بیمار ہے، ہمیں ڈاکٹر کی ضرورت ہے۔‘

اُنھوں نے ہمیں جواب دیا کہ ’انتظار کریں ڈاکٹر ابھی آ رہے ہیں لیکن بچہ ہمارے ہاتھوں میں تقریباً جان دے چکا تھا۔‘

فاخرہ اور اُن کے خاندان کو ایک کیمپ لے جایا گیا جس کے ارد گرد خاردار تاریں لگی ہوئی تھیں اور اُنھیں کچھ وقت کے لیے بارش میں کھڑا بھی ہونا پڑا: ’مجھے لگ رہا تھا کہ میں جیل میں ہوں۔ کیا میں یورپ اس لیے آئی تھی کہ میں اِس غم اور درد سے گزر سکوں؟‘

فاخرہ کیمپ میں بیمار ہوگئیں تھی۔ امدادی کارکنان اُنھیں علاج کے لیے دور لے گئے۔ اُنھوں نے اپنا پرس اور پیسے اپنے بیٹے کے حوالے کر دیے وہ یہ بھی بھول گئی کہ پرس میں اُن کی دوا موجود ہے۔

’وہ مجھے ہسپتال لے گئے، وہاں بس تقریباً 30 منٹ کا کام تھا۔ میں چاہتی تھی کہ وہ مجھے واپس لے جائیں لیکن اُنھوں نے مجھے رات وہیں روک کے رکھا اور جب میں کیمپ میں واپس لوٹی تو میں اپنے بچوں کو نہیں ڈھونڈ پا رہی تھی۔ وہ جا چکے تھے۔ میں اُنھیں مسلسل تلاش کر رہی تھی لیکن وہ مجھے نہیں ملے۔ وہ کس طرح میرے بچوں کو یہاں سے دور بھیج سکتے ہیں وہ بھی اُس وقت جب میں ہسپتال میں تھی۔

Image caption قسمت سے فاخرہ بی بی کو اپنا بھانجا مصطفیٰ اور اُن کا خاندان مل گیا

فاخرہ کو بعد میں کیمپ سے بوڈاپیسٹ ریلوے سٹیشن لے جایا گیا۔ وہ اکیلی تھی۔ ’میں انگریزی کا ایک لفظ تک نہیں بول سکتی تھی۔ میرے پاس ایک پیسہ تک نہیں تھا۔‘

اُنھوں نے جس طرح مجھے اپنے اکیلے ہونے کی داستان سنائی اُن کے چہرے سے آنسوں بہنے لگے:

’یہ انتہائی تکیف دہ تھا۔ میرا دل چھلنی ہو گیا تھا۔ میں یہ کبھی نہیں بھول سکتی۔ میں نے اُس سٹیشن پر دو روز گزارے میں رو رہی تھی اپنے بچوں کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہی تھی پر کوئی فائدہ نہیں تھا۔ میں ہر اُس شخص سے اپنے بچوں کے بارے میں پوچھ رہی تھی جس سے پوچھ سکتی۔ کوئی ایک شخص اُن باتوں کا ترجمہ نہیں کر سکتا تھا۔ وہ مجھے نہیں سمجھ پا رہے تھے ، وہ میری بنیادی مصیبت سے آشنا تک نہیں تھے۔ صرف ایک لفظ جو مجھے معلوم تھا کہ کیسے ادا ہوتا ہے وہ ’خاندان، خاندان‘ تھا۔

میں نے سٹیشن پر چند گھنٹے گزارے۔ مجھے نظر آ رہا تھا کہ ہنگری کی پولیس سٹیشن کے تہہ خانے میں بنے ٹکٹ ہال سے لوگوں کو پلیٹ فارم کی جانب دھکیل رہی ہے اور مجھے یہ عمل انسانیت سوز لگا۔ اس جگہ پر اکیلے بغیر رقم کے اور اپنے خاندان والوں سے رابطے کے بغیر رہنا اپنے ایسا ہی ہے جیسے جہنم کے اندر جہنم ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ James Reynolds BBC
Image caption یورپی کونسل کے مطابق تقریباً 40 لاکھ شامی باشندوں نے ہمسایہ ممالک کی جانب ہجرت کی ہے

’میں اِدھر اُدھر جا رہی تھی، ڈھونڈ رہی تھی، پوچھ رہی تھی لیکن ہر شخص اپنی دنیا میں مگن تھا۔‘

فاخرہ نے بتایا کہ’ میں سوچ رہی تھی کہ میں اپنے بچوں کو تلاش کر رہی ہوں اُن کے متعلق پوچھ رہی ہوں کوئی تو میری مدد کرے گا لیکن میں غلط تھی۔ وہ مجھے ایسے دیکھ رہے تھے کہ جیسے میں ہوں ہی نہیں۔ اُنھیں میرا خیال تک نہ تھا۔ وہ اپنی دنیا میں مگن تھے۔ ہر لمحے مجھے لگ رہا تھا کہ میں بار بار مر رہی ہوں۔‘

قسمت سے ان کو اپنا بھانجا مصطفیٰ اور اُن کا خاندان مل گیا۔ اُنھوں نے فاخرہ کو اپنی حفاظت میں لے لیا اور پھر وہ سب مل کر آسٹریا کی جانب چل پڑے۔

لیکن فاخرہ شدت سے اپنے بیٹے کو تلاش کرنا چاہتی تھی۔ اُنھیں دیکھ کر مجھے اپنی دادی کا خیال آگیا اور میں اُن کی مدد کرنا چاہتا تھا۔

میں نے کہا’ میری بات سنیں، ہم آپ کے بیٹے کو ڈھونڈنے میں آپ کی مدد کریں گے۔ یہ آسان نہیں ہے لیکن ہم اُنھیں ڈھونڈ لیں گے۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں۔ ہم ٹوئٹر، ای میل، فیس بک اور سنیپ چیٹ کا استعمال کریں گے۔‘

Image caption ویانا کے سٹیشن پر فاخرہ اور اُن کے بیٹے محمد مل گئے

اُس کے کچھ لمحوں بعد ہی ٹرین رک گئی ہم اب بھی ہنگری میں آسٹریا کی سرحد سے تقریباً دو میل دور تھے۔ فاخرہ سمیت ہر شخص ٹرین سے اتر کر چلنا چاہتا تھا۔

ہنگری کی سرحد پر پہنچ پر فاخرہ گر گئی اُن کی آنکھیں ڈگمگانے لگی اور پھر بند ہوگئی۔ اور آخر کار ہمیں اندازہ ہوا کہ اُنھیں شوگر کی بیماری ہے۔ ہم نے ہنگری میں ریڈ کراس کے رضاکاروں سے ڈیکسٹروکس کی گولی لیکر ان کے ہونٹوں کے نیچے رکھی اور وہ جلد ہی ہوش میں آگئیں اور اپنے پیروں پر کھڑے ہوگئی اور آسٹریا کی جانب جانے والوں کے ساتھ شامل ہوگئی۔

ہم نے بی بی سی نیوز کے فیس بک کے صفحے پر ویڈیو لگائی جس کو تین لاکھ 20 ہزار سے زائد بار دیکھا گیا۔

اس دوران ہمیں معلوم ہوا کے فاخرہ کے بیٹا محمد اپنی والدہ کو ڈھونڈنے کے لیے آسٹریا کی ایک ویب سائٹ ٹرینز آف ہوپ کا استعمال کر رہے ہیں۔

آخر کار ویانا کے سٹیشن پر فاخرہ اور اُن کے بیٹے محمد مل گئے۔یہ ایک امید کی روشن کرن تھی جو میں کبھی نھیں بھول سکتا۔

اسی بارے میں