شام میں فضائی حملوں پر امریکہ اور روس کے فوجی مذاکرات

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چند روز قبل فرانس نے بھی شام میں فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا

امریکہ اور روس کے اعلی حکام نے طے کیا ہے کہ دونوں ممالک کے فوجی سطح پر مذاکرات جلد از جلد منعقد کیے جائیں گے تاکہ شام میں کسی قسم کے تصادم سے بچا جا سکے۔

روسی دفاعی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان کہ ہوائی جہازوں نے بدھ کو شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف بیس فضائی حملے کیے۔

’شام میں فوجی کارروائی کی جاسکتی ہے‘

روسی پارلیمان نے بیرون ملک فوج کی تعیناتی کی منظوری دے دی

لیکن امریکہ نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ حملوں کا ہدف روس کے اتحادی شامی صدر بشارالاسد کے وہ مخالف ہیں جن کا تعلق دولتِ اسلامیہ سے نہیں۔

امریکہ شام اور عراق دونوں میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی حملے کر رہا ہے۔

نیٹو کا کہنا ہے کہ امریکہ کی قیادت میں جاری اس آپریشن میں روس انتہائی کم تعاون کر رہا ہے۔

امریکہ کے ایک دفاعی اہلکار کے مطابق روس نے بظاہر شام کے صدر بشار الاسد کے مخالفین کے خلاف فضائی حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔

روس کی وزارت دفاع کے مطابق روسی جیٹ طیاروں نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے لیکن امریکی حُکام کا کہنا ہے کہ جن علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے قبضے میں نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ بدھ کو ہی روس کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا نے متفقہ طور پر روسی صدر کو ملک سے باہر فوج تعینات کرنے کا اختیار دیا تھا۔

روسی فضائیہ نے بدھ کو حمص اور ہما صوبے میں باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ پیش رفت شامی صدر بشار الاسد کی جانب سے روسی فوج کو مدد کی درخواست کیے جانے کے بعد ہوئی ہے۔

شامی اپوزیشن نیٹ ورک کی مقامی رابطہ کار کمیٹی کے ایک کارکن کا کہنا ہے کہ روس نے پانچ دیہات کو نشانہ بنایا جن میں زفارانیہ، راستان، تالباثے، مکرامیہ اور گھانتو میں فضائی حملے کیے جن میں 36 افراد ہلاک ہوئے تاہم ان میں سے کوئی علاقہ دولتِ اسلامیہ کے زیرِ اثر نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس سے قبل روسی صدر نے کہا تھا کہ روس اقوام متحدہ کی منظوری کے بعد ہی فضائی حملے کرے گا

امریکی دفاعی اہلکار کا کہنا ہے کہ ’ایک روسی اہلکار نے بغداد میں آج صبح امریکی سفارتخانے کے اہلکار کو بتایا کہ روسی ائیر کرافٹ دولتِ اسلامیہ کے خلاف شام میں مشن کے لیے پرواز کریں گے۔‘

حکام نے امریکہ سے درخواست کی کہ وہ اس مشن کے دوران شام کی فضائی حدود سے گریز کریں۔

امریکی دفاعی اہلکار کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم نے میڈیا رپورٹس دیکھی ہیں جن کے مطابق روسی مشن شروع ہو گیا ہے۔‘

حکام نے کہا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادی عراق اور شام میں اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ تاہم انھوں نے روس کی کارروائی پر تنقید بھی کی ہے۔

یاد رہے کہ روس کے صدر ولادی میر پوتن نے منگل کو امریکی صدر براک اوباما سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ روس امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ مل کر شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کرنے پر غور کر رہا ہے۔

روسی صدر نے کہا تھا کہ روس اقوام متحدہ کی منظوری کے بعد ہی فضائی حملے کرے گا۔

عالمی ردِ عمل

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سعودی عرب نے کہا ہے کہ اگر شام میں صدر بشارالاسد کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے موجودہ سیاسی طریقہ کار کارگر ثابت نہیں ہوتا تو فوجی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے

عالمی اور علاقائی طاقتیں بھی اس جنگ میں شامل ہو چکی ہیں جن میں روس اور ایران کے ساتھ لبنان کی حزب اللہ موومنٹ صدر بشار الاسد کی مدد کر رہی ہیں۔ تاہم دوسری جانب ترکی، سعودی عرب اور قطر روس، برطانیہ ور امریکہ کے ساتھ مل کر شامی میں سنّی اکثریتی اپوزیشن کی حامی ہے۔

اسی بارے میں