اسقاط حمل کا مخالف امریکی کارکن آسٹریلوی حراست میں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption نیومن نے ماضی میں اسقاط حمل کرنے والے ڈاکٹرز کو پھانسی دیے جانے کا مطالبہ کیا تھا

آسٹریلیا نے اسقاط حمل کے خلاف مہم چلانے والے امریکی کارکن کو درست ویزے کے بغیر ملک میں داخل ہونے پر حراست میں لے لیا ہے۔

آسٹریلوی وزرا کا کہنا ہے کہ ٹروئے نیومن کی موجودگی سے اسقاط حمل کروانے والی خواتین اور ان کے ڈاکٹروں کے خلاف فسادات شروع ہو سکتے ہیں جس کے بعد منگل کو ان کا ویزہ مسترد کر دیا گیا تھا۔

ٹروئے نیومن کو ان کا ویزہ مسترد کیے جانے کے بعد امریکی شہر ڈینیور میں روک دیا گیا تھا۔ تاہم بعد میں وہ دوسری پرواز کے ذریعے میلبرن کے لیے روانہ ہو گئے۔

انھوں نے ’رائٹ ٹو لائف آسٹریلیا‘ نامی تنظیم کے ایک ایونٹ میں خطاب بھی کرنا تھا۔

آسٹریلوی امیگریشن کی وزیر کے ترجمان پیٹر ڈیوٹن کا کہنا ہے کہ ’ٹروئے نیومن ویزا نہ ہونے کی وجہ سے آسٹریلیا میں داخل نہیں ہو سکتےتھے اس لیے وہ آسٹریلین بارڈر فورس کے حکام کی حراست میں میلبرن ایئرپورٹ پر تب تک رہیں گے جب تک انھیں واپس بھیج نہیں دیا جاتا۔‘

نیومن نے ماضی میں اسقاط حمل کرنے والے ڈاکٹرز کو پھانسی دیے جانے کا مطالبہ کیا تھا اور انھوں نے اسقاط حمل کروانے والی خواتین کو قاتل کہا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ انھیں ملک بدر کرنے سے روکنے کے لیے حکومت کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔

میلبرن پہنچنے سے قبل انھوں نے اپنے فیس بک صفحے پر لکھا تھا کہ ’میرا ویزا مسترد کرنے کا فیصلہ ’سراسر جھوٹ‘ کی بنا پر کیا گیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ میں فساد پھیلاتا ہوں۔‘

’میری پرامن، عاجزانہ افعال پر مبنی 25 سالہ تاریخ گواہ ہے۔ دعا کریں کہ امیگریشن کا مسئلہ حل ہو جائے تاکہ پورے آسٹریلیا میں سچ بتایا جا سکے۔‘

آسٹریلوی حکام کا کہنا ہے کہ ٹروئے نیومن جس ایئر لائن کی پرواز کے ذریعے آسٹریلیا آئے ہیں اسے اب ایک ایسے مسافر کو لانے جس کے پاس درست ویزا نہیں تھا پر جرمانے کا سامنا ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق وہ یونائیٹڈ ایئر لائن تھی۔

اسی بارے میں