’بات چیت اور دہشت گردی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سشما سوراج نے دہشت گردی کی حمایت کرنے والی ریاستوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا

بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے بھارت اور پاکستان کے درمیان معطل ہونے والے امن مذکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ ’بات چیت اور دہشت گردی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔‘

پاکستان کا بھارت کے لیے چار نکاتی امن ایجنڈا

’کشمیر کا مسئلہ اٹھایا تو معقول جواب دیا جائےگا‘

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ دہشت گرد اچھے یا برے نہیں ہوتے نہیں بلکہ دہشت گرد دہشت گرد ہوتے ہیں۔‘

سشما سوراج نے کہا، ’جو ملک دہشت گردوں کی حمایت کرتے ہیں، انہیں ہتھیار مہیا کرتے ہیں یا ان کی مدد کرتے ہیں تو بین الاقوامی برادری کو ایسے ممالک کے خلاف کھڑا ہونا پڑے گا۔‘'

سشما سوراج نے کہا کہ بھارت طویل عرصے سے دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے۔

انھوں نے پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف کے اقوام متحدہ میں امن کے لیے دی گئی چار نکات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں چار نہیں چاہیئں بلکہ ایک ہی نکتہ کافی ہے اور وہ یہ کہ دہشت گردی ترک کی جائے اور بیٹھ کر بات چیت کی جائے۔‘

سشما سوراج نے الزام عائد کیا کہ کہا، ’دہشت گردی کے سلسلے میں ماضی میں کروائی گئی یقین دہانیوں پر عمل کرنے کی بات تو دور، سرحد پار سے حال ہی میں بھارت میں نئے حملے ہوئے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم سب جانتے ہیں کہ یہ حملے بھارت میں عدم استحکام پھیلانے اور کشمیر کے کچھ حصوں پر پاکستان کے ناجائز قبضے کو درست ٹھہرانے کی کوشش ہے۔‘

بھارتی وزیر خارجہ نے عالمی ممالک کو خطاب کرتے ہوئے کہا، ’ہم میں سے کوئی بھی دہشت گردی کو حکومت کے اوزار کے طور پر استعمال کرنے والوں کو برداشت نہیں کر سکتا۔‘

انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کی حمایت کرنے والی ریاستوں کا مناسب طریقے سے سامنا نہیں کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے ایسی ریاستوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

سشما سوراج نے کہا، ’1996 میں ہندوستان نے بین الاقوامی دہشت گردی کے خلاف ایک وسیع کنونشن کی تجویز پیش کیا تھا، ہم آج تک اسے پاس نہیں کر پائے۔ ہم دہشت گردی کی تعریف طے کرنے میں ہی الجھے ہوئے ہیں۔‘

’اب اس سے گریز نہیں کیا جا سکتا۔ دہشت گردی کو کسی مذہب سے جوڑ کر نہیں دیکھا جا سکتا، دہشت گردی تو دہشت گردی ہی ہوتی ہے۔‘

ممبئی حملوں کا ذکر کرتے ہوئے سشما سوراج نے کہا، ’میں سمجھتی ہوں کہ بین الاقوامی برادری کے لیے یہ توہین کی بات ہے کہ ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والا، اسے انجام دینے والا دہشت گرد سرعام کھلا گھوم رہا ہے۔‘

سشما سوراج نے سلامتی کونسل میں اصلاحات کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم سال 2015 میں اس کی سلامتی کونسل کے ساتھ کیسے رہ سکتے ہیں جو 1945 کی عالمی سیاسی حالات کے لیے قائم کی گئی تھی۔‘

اسی بارے میں