برطانوی یونیورسٹیوں کی اعلیٰ کارکردگی

Image caption دنیا کی جامعات کی درجہ بندی معیارِ تعلیم، تحقیق اور بین الاقوامی نقطہ نظر کے تحت کی جاتی ہے

برطانیہ کی 34 جامعات کا نام ٹائمز ہائیر ایجوکیشن کی درجہ بندی میں دنیا کی200 بہترین جامعات میں شامل ہوگیا ہے۔

آکسفرڈ یونیورسٹی دوسرے نمبر جبکہ کیمبرج یونیورسٹی اور امپیریل کالج لندن چوتھا اور آٹھواں نمبر لے کر بہترین 10 یونیورسٹیوں میں شامل ہوگئی ہیں۔

امریکہ کے کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نے مسلسل پانچ سال سے پہلی جگہ بنائی رکھی ہے۔

پچھلے سال 87 کے مقابلے میں اس سال یورپ کی 105 یونیورسٹیوں کا شمار دنیا کی200 بہترین جامعات میں ہوتا ہے۔

دنیا کی جامعات کی درجہ بندی معیارِ تعلیم، تحقیق اور بین الاقوامی نقطہ نظر کے تحت کی جاتی ہے۔ مثال کے طورپر غیرملکی طالب علموں اور سٹاف کی تعداد دیکھی جاتی ہے۔

برطانوی جامعات کی اکثریت کی درجہ بندی میں اضافہ ہوا ہے۔ مثلاً وارک، سینٹ اینڈریوز اور ایکسیٹر کئی درجے اوپر گئی ہیں۔

امریکی یونیورسٹیاں

اگر بات کی جائے مہنگی جامعات کی تو امریکہ اب بھی دنیا پر حکمرانی کررہا ہے لیکن اس کے غلبے میں اس سال کمی آچکی ہے۔

پچھلے سال کے مقابلے میں سات سے کم ہوکر اس کی چھ جامعات بہترین دس یونیورسٹیوں میں شامل ہوئی ہیں جبکہ پچھلے سال کے مقابلے میں 45 سے کم ہوکر 39 جامعات کا شمار 100 بہترین جامعات میں ہوتا ہے۔

ایشیا کی مخلوط تصویر ہے جس میں جاپان اور جنوبی کوریا کی جامعات درجہ بندی میں اس سال دوبارہ گرگئی ہیں جبکہ چین اب بھی مستحکم مقام پر ہے۔

یورپ میں اینگلو امریکی جامعات غلبہ حاصل کررہی ہیں جن میں سوئس فیڈریل انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، زیورک امریکہ اور برطانیہ سے باہر پہلا تعلیمی ادارہ ہے جو اس دہائی میں دنیا کی دس بہترین جامعات میں جگہ بنا پایا ہے۔

بہترین 200 جامعات میں جرمنی کی 20، نیدرلینڈ کی 12 اور فرانس کی پانچ جامعات شامل ہیں جبکہ سپین اور اٹلی دونوں کی تین تین جامعات ہیں۔

دنیا کی جامعات کی درجہ بندی کے ادارے ٹائمز ہائیر ایجوکیشن کے مدیر فل بیٹی کا کہنا ہے کہ ’اس سال کی درجہ بندی میں برطانیہ کی کارکردگی سب سے اچھی ہے۔ مجموعی طور پر برطانیہ کے 78 تعلیمی ادارے شاندار حیثیت کے ہیں جن میں سے 34 جامعات دنیا کی 200 بہترین جامعات میں شامل ہیں۔‘

’تاہم برطانیہ کی کامیابی کے باوجود اس کی اعلیٰ تعلیم کے لیے کی جانے والی فنڈنگ میں کٹوتی جاری ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’یورپ کے بہت سے حریف ممالک جیسے جرمنی، سوئٹزرلینڈ اور نیدرلینڈ کی کارکردگی بھی اچھی ہے لیکن فنڈنگ کی کٹوتیوں میں کمی اور بین الاقوامی طالب علموں کو خیرمقدم کہنے کی وجہ سے ان کا شمار بہترین جامعات میں نہیں کیا جاتا۔‘

’برطانیہ کو دنیا کی جامعات کی درجہ بندی میں اپنی جگہ برقرار رکھنے کے لیے اعلیٰ تعلیم کے اخراجات اور امیگریشن پالیسیوں کو بہتر بنانے کے لیے سخت محنت کرنا ہوگی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مہنگی جامعات کے حوالے سے امریکہ اب بھی دنیا پر حکمرانی کررہا ہے لیکن اس کے غلبے میں اس سال کمی آچکی ہے

اسی بارے میں