’اداکاری کرنی ہے تو کپاس چننی ہو گی‘

کچھ مراعات یافتہ اداکار اس سارے عمل کو صدر اسلام کریموف کی حکومت سے اپنی فاداری ثابت کرنے کا موقع سمجھتے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشن

کچھ مراعات یافتہ اداکار اس سارے عمل کو صدر اسلام کریموف کی حکومت سے اپنی فاداری ثابت کرنے کا موقع سمجھتے ہیں

ازبکستان کی حکومت نے موسیقاروں، فلمی ستاروں اور ہدایتکاروں سے کہا ہے کہ وہ کپاس کی فصل کو چننے میں مدد کریں بصورتِ دیگر ان پر پابندی لگ سکتی ہے۔

ازبک زبان میں نشر ہونے والے لبرٹی نامی امریکی ریڈیو سے بات کرتے ہوے متعدد فنکاروں نے بتایا ہے کہ انھیں سرکاری فلم ساز کمپنی کی جانب اس سلسلے میں ہدایات موصول ہوئی ہیں اور سٹیج کے اداکاروں کو بھی کہا گیا ہے کہ وہ فصل چننے کے لیے تاشقند کے علاقے میں واقع کپاس کے کھیتوں کا رخ کریں۔

ایک فلم اداکار کا کہنا تھا کہ ’وہ اس سلسلے میں کافی سختی کر رہے ہیں، ہمیں بسوں میں بیٹھا کر کھیتوں میں لےجایا گیا اور کہا گیا کہ دوپہر کے کھانے سے قبل ہر شخص کم از کم 30 کلو کپاس چنے اور اس میں کوتاہی نہیں ہونی چاہیے۔‘

اداکار کا مزید کہنا تھا کہ ’ انھوں نے ہم پر واضع کر دیا تھا کہ جو بھی مطلوبہ ہدف حاصل نہیں کر سکے گا اسے اداکاری کا کام نہیں ملے گا۔‘

یہ خبر وسطی اشیا کے میڈیا کی جانب سے بڑے پیمانے پر رپورٹ کی گئی ہے لیکن ملک کے اندر اسے رپورٹ نہیں کیا گیا ہے کیونکہ ازبکستان میں ذرائع ابلاغ پر پابندیاں عائد ہیں اور حکومت پر تنقید کی کسی کو اجازت نہیں ہے۔

لبرٹی ریڈیو کے مطابق مقامی اخبارات نے رپورٹ کیا ہے کہ کسان اپنی مدد کے لیے فنکاروں کو دعوت دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ ازبکستان کو سرکاری اراضی پر لگائی جانے والی فصلوں کی چنائی کے لیے فوجیوں، طلبا، سرکاری ملازمین اور بعض اوقات بچوں سے جبری مشقت لینے پر بین الاقوامی برادری کی جانب سے تنقید کا سامنا رہتا ہے۔

ماضی میں بھی کھیتوں میں کام کرنے والے افراد کو تفریح مہیا کرنے کے لیے فنکاروں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ ان کو کھیتوں میں کام کرنے کا کہا گیا ہو۔

لبرٹی ریڈیو کے مطابق لیکن کچھ مراعات یافتہ اداکار اس سارے عمل کو صدر اسلام کریموف کی حکومت سے اپنی فاداری ثابت کرنے کا موقع سمجھتے ہیں۔