روس بمباری بند کرے، امریکی اتحادیوں کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کولڈ وار کے بعد ، سابق سوویٹ یونین کی سرحدوں سے پار یہ روس کی پہلی عسکری کاراوائی ہے

شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی میں مصروف امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام میں فوری طور پر اپنی فضائی بمباری کی مہم کو معطل کرے۔

امریکہ، برطانیہ، ترکی اور سعودی عرب کی جانب سے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ روسی بمباری کی وجہ سے شام میں کشیدگی میں اضافہ ہوگا اور یہ انتہا پسندی کو پھیلانے کا سبب بنے گی۔

دوسری جانب شام کی صورتحال پر فرانس اور روس میں بات چیت ہونے والی ہے۔

امریکہ کی طرح فرانسیسی جیٹ طیارے شام میں دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں لیکن امریکہ کو خدشہ ہے کہ روس شام میں بشار الاسد کے مخالفین کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

روس کا کہنا ہے کہ وہ انھی عناصر کو نشانہ بنا رہا ہے جن کو امریکہ بھی نشانہ بنا رہا ہے۔

ایک سینیئر روسی اہلکار نے بتایا ہے کے روسی فضائی کارروائی کئی ماہ تک جاری رہ سکتی ہے۔

روسی پارلیمان کی خارجہ امور کمیٹی کے سربرہ الیکسی پوشکوو نے کہا ہے کہ اب تک امریکہ نے دولت اسلامیہ پر بمباری کرنے کا محظ ’ڈھونگ‘ کیا ہے اور ان کی فضائی مہم اس سے کئی گنا موثر ہوگی۔

شام میں حکومت مخالف گرہوں نے الزام لگایا ہے کہ روس اپنے اتحادی بشار الاسد کو بچانے کے لیے ان کو نشانہ بنا رہا ہے۔

فرنسیسی صدر فرانسوا اولاند نے کہا کہ سب سے اہم چیز یہ ہے کہ تمام فضائی حملے ’داعش‘ کے خلاف کیے جائیں۔

یو این کے نیو یارک ہیڈ کواٹرز میں پریس سے بات کرتے ہوِئے روسی وزیر خارجہ سرگی لوروف کا کہنا تھا کہ روس دولت اسلامیہ کے علاوہ القاعدہ سے منسلک النصرہ فرنٹ جیسی دہشت گرد تنظیموں کو بھی نشانہ بنائے گا۔

لوروف نے کہا کہ تمام اہداف کا تعین شامی فوج کی مشاورت کے ساتھ کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں