جرمنی کو اس سال ’15 لاکھ پناہ گزینوں کا سامنا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption سب سے زیادہ تارکین وطن آسٹریا، ہنگری اور بلقان کے ذریعے جرمنی پہنچتے ہیں

جرمن ذرائع ابلاغ کے مطابق رواں سال 15 لاکھ لوگ جرمنی میں پناہ لینے کی کوشش کریں گے۔ یہ تعداد گذشتہ سال کے تخمینے سے دوگنی ہے۔

جرمن حکومت نے اس نئے تخمینے کی تصدیق نہیں کی ہے جو مقبول جرمن اخبار ’بلڈ‘ نے ایک اندرونی سرکاری رپورٹ کا حوالہ دے کر شائع کیا ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ امدادی تنظیمیں اس بڑی تعداد سے نمٹ نہیں پائیں گی۔

پناہ گزینوں کی آمد سےمرکل کی مقبولیت کم

پناہ گزینوں کا بحران:جرمنی بارڈر کنٹرول شروع کر ے گا

پناہ گزینوں سے جرمن شہریوں کو کیا توقعات؟

دوسری جانب وسط دائیں بازو کی جماعت کے ایک علاقائی وزیر نے تخمینہ لگایا ہے کہ رواں سال 12 سے 15 لاکھ افراد جرمنی میں پناہ لینے کی کوشش کریں گے۔

جرمن حکومت نے پہلے ملک میں پناہ لینے کے خواہشمندوں کی تعداد کا اندازہ آٹھ سے دس لاکھ بتایا تھا۔

خیال رہے کہ یورپ حالیہ کئی مہینوں سے پناہ گزینوں کے بحران سے دوچار ہے کیونکہ بڑی تعداد میں تارکینِ وطن یورپ کا رخ کر رہے ہیں۔ ان میں سے اکثریت ان لوگوں کی ہے جو شام کے فساد اور غربت سے بھاگ کر وہاں پہنچے ہیں۔

پناہ گزین عراق اور افغانستان میں ہونے والی جنگ سے بھی بھاگ کر جرمنی آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ روزگار کی تلاش میں آنے والے تارکین وطن بلقان، ایشیا اور افریقہ سے بھی آ رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption چیک سرحد کے قریب ایک بڑے ہجوم نے مسلمان تارکین وطن کو جرمنی سے باہر رکھنے کا مطالبہ کیا تھا

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین انتونیو گوتیریش نے خبردار کیا ہے کہ یورپ پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کے دوران ’رحمدلی بمقابلہ خوف اور رواداری بمقابلہ اجنبی دشمنی کی جنگ میں مبتلا ہے۔‘

جنیوا میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے یورپ پر زور دیا کہ وہ ’ہر مذہب کے پناہ گزینوں کا استقبال کر کے اپنی برداشت اور کشادگی کی اقدار کا دفاع کرے۔‘

ہنگری اور سلوواکیہ کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ مسلمانوں کی آمد سے یورپ کی ’عیسائی‘ شناخت کو چیلنج کا سامنا ہے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کے باوجود پناہ گزینوں کے لیے ملک کے دروازے کھولنے کی حکمتِ عملی کا دفاع جاری رکھا ہے۔

لیکن بہت سے سیاست دانوں، بشمول ان کے اتحادی جماعتوں اور یورپی شراکت داروں نے اس حکمتِ عملی پر تنقید کی ہے۔

اسی بارے میں