عراق میں سلسلہ وار کار بم دھماکوں میں 63 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ ماہ عراق میں تشدد، دہشت گردی اور مسلح تنازعات میں 717 افراد ہلاک اور 1200 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں

عراق میں پولیس اور طبی حکام نے بتایا ہے کہ بغداد سمیت ملک کے متعدد شہروں میں ہونے والے کار بم دھماکوں میں کم از کم 63 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

سب سے مہلک دھماکوں میں سے ایک بغداد سے 55 کلومیٹر دور صوبہ دیالہ کے شیعہ اکثریتی قصبے خالص میں ہوا جس میں کم از کم 40 افراد مارے گئے۔

بغداد کا گرین زون عام عوام کے لیے کھول دیا گیا

پولیس کے مطابق دارالحکومت بغداد میں بھی دو دھماکے ہوئے جن میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ ملک کے جنوب مغربی شہر بصرہ سے 15 کلومیٹر دور واقع قصبے الزبیر میں بھی ایک دھماکہ ہوا جس میں 10 افراد ہلاک ہوئے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق دارالحکومت بغداد میں ہونے والے دھماکوں میں سے ایک کا نشانہ شہر کا شمال مشرقی علاقے حسینیہ تھا اور اس حملے میں کم از کم 25 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

یہ دھماکے ایک ایسے دن ہوئے ہیں جب عراق میں 12 سال بعد بغداد کے سب سے قلعہ بند علاقے ’گرین زون‘ کو عوام کے لیے کھولا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دارالحکومت بغداد میں بھی دو دھماکے ہوئے جن میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہوئے

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے پیر کو بصرہ کے نواح میں ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے جبکہ دیگر دھماکوں کی ذمہ داری تاحال کسی نے نہیں لی ہے۔

دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے کئی بار شیعہ علاقوں اور سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنایا ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بصرہ میں دھماکے کی خبر سب کے لیے حیران کن تھی کیونکہ یہ شیعہ اکثریتی علاقہ ہے اور یہاں سنی شدت پسندوں کے حملہ کرنا اتنا آسان نہیں رہا جتنا کہ بغداد یا ملک کے دیگر حصوں میں ہے۔

سب سے زیادہ جانی نقصان والے دھماکے کا نشانہ بننے والا صوبہ دیالہ جزوی طور پر دولتِ اسلامیہ کے زیرِ اثر رہا ہے اور عراقی حکومت نے رواں برس جنوری میں اسے شدت پسندوں کے قبضے سے آزاد کروانے کا دعویٰ کیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ ماہ عراق میں تشدد، دہشت گردی اور مسلح تنازعات میں 717 افراد ہلاک اور 1200 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں