بوٹسوانا میں لیگولس نامی چیتے کو مار دیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Cheetah Conservation Botswana
Image caption لیگولس کی مدد سے محقیقوں کو ملنے والی معلومات سے پتہ چلا کہ چیتے ایک ساتھ شکار کیسے کرتے ہیں

افریقی ملک بوٹسوانا میں لیگولس نامی چیتے جسے تحقیق کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے کو محافظوں کے مطابق مار دیا گیا ہے۔

اس چیتے کا نام فلم ’لارڈ آف دی رنگز‘ کے کردار ’ایلف‘ کے نام پر رکھا گیا تھا اور اس کی مدد سے محققوں کو یہ جاننے میں مدد ملی کہ جانور ایک ساتھ شکار کیسے کرتے ہیں۔

یہ مرا ہوا چیتا سڑک پر پڑا ہوا ملا جس کے قریب ہی شاٹ گن کے کارتوس بھی گرے ہوئے تھے، جس پر چیتا کنزرویشن بوٹسوانا یعنی سی سی بی کا کہنا ہے کہ یہ ’ایک غیر ضروری اور بے سبب حملہ تھا‘۔

چیتے کے اس طرح مارے جانے کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ کوئی غیر قانونی شکار کا معاملہ ہے۔

اس سے قبل زمبابوے میں بھی ایک مشہور شیر سیسل کو امریکی ڈینٹسٹ نے مار دیا تھا جس پر پوری دنیا میں شدید رد عمل سامنے آیا تھا۔

سی سی بی کے مطابق: ’لیگولس دیگر مویشیوں کے لیے خطرہ نہیں تھا کیونکہ اس علاقے میں کوئی گائے یا بیل نہیں تھے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ موقع پاتے ہی اس چیتے پر حملہ کیا گیا ہے۔‘

اس گروپ کا کہنا ہے کہ انھیں علاقے کے کسانوں سے ہمدردی ہے جنھیں اکثر جنگلی جانوروں سے مسئلہ ہوتا ہے لیکن ان کے مطابق یہ حملہ ’بے وجہ اور دل د ہلانے والا ہے‘۔

68.5 کلو گرام وزنی لیگولس پکڑے جانے والا سب سے بڑے چیتوں میں سے ایک تھا۔

لیگولس کے مارے جانے کے ساتھ ریسرچ کے لیے سات چیتوں پر لگائے گئے کالرز میں سے تین چیتے مارے جا چکے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق افریقہ میں چیتوں کی تعداد ایک لاکھ ہے۔

اسی بارے میں