مقیّد سعودی بلاگر کے لیے آزادئ اظہار کا اہم ایوارڈ

تصویر کے کاپی رائٹ family handout
Image caption بداوی پر ابتدائی طور پر ارتداد کا الزام بھی لگایا گیا لیکن سنہ 2013 میں انھیں اس الزام سے بری کر دیا گیا تھا

سعودی عرب میں دس برس قید اور ایک ہزار کوڑوں کی سزا پانے والے سعودی بلاگر رائف بداوی کو لندن میں آزادئ اظہار کا اہم ایوارڈ دیا گیا ہے۔

بداوی کو انگلش پین نیٹ ورک کی جانب سے منگل کو انٹرنیشنل رائٹر آف کریج ایوارڈ کا حقدار قرار دیا گیا۔

بداوی کی سزا برقرار رکھنے کا حکم

بلاگر کی سزا: ’دنیا ہمارے معاملے میں دخل نہ دے‘

وہ برطانوی شاعر اور صحافی جیمز فینٹن کے ساتھ مشترکہ طور پر ایوارڈ کے حقدار قرار دیے گئے۔

رائف بداوی کی جانب سے ایوارڈ وصول کرتے ہوئے وکی پیڈیا کے بانی جمی ویلز نے برطانوی حکومت پر زور دیا کہ وہ ’اخلاقی قیادت‘ کا مظاہرہ کرے اور بداوی کو رہا کروائے۔

بداوی اس وقت سعودی عرب میں قید ہیں اور ان کی سزا پر سعودی عرب کو عالمی سطح پر تنقید کا سامنا رہا ہے۔

رائف بداوی کو یہ سزا گذشتہ سال مئی میں توہین مذہب کے الزام میں سنائی گئی تھی جس پر جزوی طور پر عمل درآمد بھی ہوا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption رائف کی سزا پر سعودی عرب کو عالمی سطح پر تنقید کا سامنا رہا ہے

انھیں رواں برس کے آغاز میں جدہ کی ایک مسجد کے باہر 50 کوڑے مارے گئے جس پر عالمی برادری کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔

اس عالمی تنقید کے بعد پہلے تو ان کی سزا پر عمل درآمد کئی بار ملتوی کیا گیا اور پھر سعودی شاہ کے دفتر نے سزا پر نظرِ ثانی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

تاہم سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے جون 2015 میں رائف بداوی کو سنائی گئی دس سال قید اور ایک ہزار کوڑے مارنے کی سزا برقرار رکھی۔

بداوی نے سنہ 2008 میں سعودی عرب میں لبرل سعودی نیٹ ورک کے نام سے ایک آن لائن فورم تشکیل دیا تھا جس کا مقصد سعودی عرب میں مذہبی اور سیاسی معاملات پر بات چیت کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔ یہ آن لائن فورم اب بند ہے۔

سنہ 2012 میں بداوی کو گرفتار کیا گیا اور ان پر الیکٹرونک چینلز کے ذریعے ’اسلام کی توہین‘ اور ’تابع فرمانی کی حدود سے تجاوز‘ کے الزامات عائد کیے گئے۔

ان پر ارتداد کا الزام بھی لگایا گیا لیکن سنہ 2013 میں انھیں اس الزام سے بری کر دیا گیا تھا۔ اگر یہ الزام ثابت ہو جاتا تو انھیں موت کی سزا دے دی جاتی۔

اسی بارے میں