اوباما معافی کے طلبگار، ایم ایس ایف غیرجانبدارانہ تحقیقات پر مُصِر

Image caption امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ اگر غلطیاں کرتا ہے تو انھیں ایمانداری سے تسلیم کیا جاتا ہے

عالمی امدادی تنظیم میڈیسنز سانز فرنٹیئرز نے افغان شہر قندوز میں اپنے ہسپتال پر بمباری کے واقعے پر امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے معافی مانگے جانے کے باوجود معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ دہرایا ہے۔

ایم ایس ایف کے زیرِ انتظام چلنے والے ہسپتال پر سنیچر کو ہونے والی بمباری میں امدادی تنظیم کے 12 ارکان سمیت 22 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ بمباری غلطی سے کی گئی جبکہ ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ ان کا ہسپتال جانا پہچانا تھا اور اس پر کی جانے والی بمباری غلطی نہیں ہو سکتی۔

ایم ایس ایف نے جنگی جرم کی تفتیش کا مطالبہ کر دیا

قندوز میں بمباری ایک غلطی تھی: جنرل جان کیمبل

’کیا امریکہ نے خود بھی ہدف کی تصدیق کی؟‘

امدادی تنظیم کا کہنا ہے کہ اس بمباری کی تحقیقات جنیوا کنونشن کے تحت حقائق کی کھوج لگانے والا ایک عالمی مشن کرے۔

واضح رہے کہ امریکی وزارتِ انصاف، پینٹاگان، نیٹو اور امریکی افغان ٹیم کے علاوہ اس حملے کی تحقیقات کے لیے متعدد انکوائریوں کا حکم دیا گیا ہے۔

تاہم ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ اسے کسی اندرونی فوجی تحقیق پر بھروسہ نہیں ہے اور وہ ہسپتال پر امریکی بمباری کی تحقیقات کے لیے انسانی حقوق سے متعلق حقائق جاننے کے ادارے آئی ایچ ایف ایف سی کی خدمات حاصل کر رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ MSF
Image caption ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ ان کا ہسپتال جانا پہچانا تھا اور اس پر کی جانے والی بمباری غلطی نہیں ہو سکتی

ایم ایس ایف کی سربراہ جواین لیو نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ ہم امریکی، نیٹو اور افغان افواج کی جانب سے کی جانے والی کسی اندرونی تحقیقات پر انحصار نہیں کر سکتے۔‘

امریکی صدر کے دفتر کے ترجمان جوش ارنسٹ کے مطابق صدر اوباما نے میڈیسنز سانز فرنٹیئرز کی صدر جواین لیو سے بدھ کو ٹیلیفون پر بات چیت میں ہلاکتوں پر تعزیت کی اور انھیں یقین دلایا کہ تحقیقات جامع اور شفاف ہوں گی۔

جوش ارنسٹ نے کہا ہے کہ اس معاملے میں ’اگر افراد کو انفرادی طور پر ذمہ دار ٹھہرانا پڑا تو اس سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔‘

ترجمان کے مطابق صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’امریکہ میں اگر ہم غلطیاں کرتے ہیں تو ہم انھیں ایمانداری سے تسلیم کرتے ہیں۔‘

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے اس بات کا اشارہ بھی دیا کہ امریکہ بمباری میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین اور زخمیوں کو زرِ تلافی بھی ادا کر سکتا ہے۔

جوش ارنسٹ نے کہا کہ وہ قانونی طور پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ بمباری ایک جنگی جرم تھا اور امریکہ شہری ہلاکتوں کو کم از کم رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرتا ہے۔

اسی بارے میں