انگلیاں کھونے والے جاپانی کوہ پیما کی جستجو

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نوبوکازو کوریکو نے چھ سال میں پانچ مرتبہ ایورسٹ کو سر کرنے کی کوشش کی ہے

ایک انگلی والے جاپانی کوہ پیما نوبوکازو کوریکو نے ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کی کوشش ایک مرتبہ پھر ترک کر دی ہے۔

رواں سال اپریل میں نیپال میں آنے والے زلزلے کے بعد یہ کسی بھی کوہ پیما کی دنیا کی سب سے اونچی چوٹی سر کرنے پہلی کوشش ہے۔

زلزلے کی وجہ سے آنےوالے برفانی تودے کے نتیجے میں ایورسٹ پر 18 افراد ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد اسے سر کرنے کی تمام کوششیں معطل کر دی گئی تھیں۔

نوبوکازو کوریکو نے چھ سال میں پانچ مرتبہ ایورسٹ کو سر کرنے کی کوشش کی ہے جس میں چار بار انھوں نے یہ سفر تنہا طے کیا۔

ان کے علاوہ پہاڑ پر اس وقت کوئی اور موجود نہیں ہے۔

2012 میں آٹھ ہزار میٹر کی بلندی پر شدید سردی کا شکار ہونے کی وجہ سے وہ اپنی تقریباً تمام انگلیاں کھو بیٹھے تھے۔ اس مقام پر درجہ حرارت منفی 20 سینٹی گریڈ تھا۔

اس بار بھی منزل کے قریب پہنچ کر مسٹر کوریکو کو اپنی کوشش ترک کرنی پڑی۔

پہاڑ سے فیس بک اپ ڈیٹ کرتے ہوئے انھوں نے لکھا: ’میں نے اپنی پوری کوشش کی ہے لیکن اب مجھے واپس مڑنا پڑے گا۔‘

انھوں نے اپنے مداحوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ تیز ہوا ان کے اس فیصلے کا سبب بنی۔

’ہوا کی رفتار تیز ہوتی جا رہی تھی اور مجھے احساس ہوا کہ اگر میں چوٹی پر پہنچ بھی گیا تو واپس نیچے نہیں اتر سکوں گا۔‘

مسٹر کوریکو سردی کے موسم میں ایورسٹ کو سر کرنا پسند کرتے ہیں جو ان کے نزدیک کوئی چوٹی سر کرنے کے لیے بہترین موسم ہے۔

کوریکو نے وہی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا جو ایورسٹ سر کرنے والے پہلے اشخاص ایڈمنڈ ہلیری اور تن زگ نورگے نے 1953 میں استعمال کیا تھا۔

اسی بارے میں