نیٹو کو روس کی شام میں کارروائیوں پر ’تشویش‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گذشتہ روز روس نے شام میں جاری اپنی عسکری کارروائی کے دوران پہلی مرتبہ بحریہ کے استعمال کی تصدیق کی

برسلز میں نیٹو ممالک کے وزرا کے اجلاس سے قبل اپنے بیان میں نیٹو اتحاد کے سکریٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ نے کہا کہ دفاعی وزرا روسی فوج کی ’تشویش ناک کارروائیوں‘ کا جائزہ لیں گے۔

ادھر شام کے ہمسایہ اور نیٹو کے رکن ملک ترکینے یہ شکایت کی ہے کہ روس مسلسل اس کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

اتحاد کی ناکامی، مشرقِ وسطیٰ کی تباہی

’روسی بمباری سے دولتِ اسلامیہ مضبوط‘

نیٹو اتحاد کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ انھیں روس کی جانب سے کروز میزائلوں کے استعمال اور روسی فضائی حملوں پر تشویش ہے مگر نیٹو اپنے تمام اتحادیوں کے دفاع کے لیے تیار ہے۔

انھوں نے روس سے مطالبہ کیا کہ وہ شامی صدر کی حمایت بند کرے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز روس نے شام میں جاری اپنی عسکری کارروائی کے دوران پہلی مرتبہ بحریہکو استعمال کیا تھا۔

بی بی سی کے دفاعی امور کے تجزیہ کار جوناتھن مارکس نے کہا ہے کہ ان ممالک کے اتحاد سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی چیلنج کا جواب دیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نیٹو کے ممبر ترکی نے شکایت کی ہے کہ روس بار بار اس کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر رہا ہے

توقع کی جا رہی ہے کہ اجلاس میں نیٹو ممالک کے وزرا ترکی کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں گے اور نیٹو کے بلقان سے تعلق رکھنے والے رکن ممالک کی جانب سے مشرقی یوکرین میں روس کی مداخلت پر بڑھتے ہوئے تحفظات پر بھی بات کریں گے۔

امکان ہے کہ برطانوی سیکریٹری دفاع یہ اعلان کریں گے کہ ان کا ملک بلقان کی ریاستوں میں اپنے فوجی دستوں کو طویل عرصے تک تعینات کر سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شامی صدر کو روس کی حمایت حاصل ہے جبکہ مغربی ممالک کی اکثریت کا خیال ہے کہ شام کے بحران کے خاتمے کے لیے بشارالاسد کا اقتدار چھوڑنا ضروری ہے

روس کے وزیرِ خارجہ سرگے لاوروف کے مطابق ماسکو باغی تنظیم مغرب کی حمایت یافتہ فری سیریئن آرمی سے رابطہ کرنا چاہتا ہے تاکہ اس سے دولتِ اسلامیہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ لڑائی پر بات کر سکے۔ تاہم امریکی وزیرِ دفاع چک ہیگل نے روس کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعاون کو مسترد کر دیا ہے۔

ترکی نے کہا ہے کہ اس کی فضائی حدود کی مداخلت کر کے روس نہ صرف ایک دوست بلکہ بہت کچھ کھو دے گا، جبکہنیٹو نے کہا ہے کہ روس کی جانب سے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی غلطی نہیں ہو سکتی۔

اسی بارے میں