’چار روسی کروز میزائل شام کی بجائے ایران میں گرے تھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Russian Ministry of Defence
Image caption روس نے پانی سے خشکی پر مار کرنے والے 26 کروز میزائل داغے تھے اور روسی حکام نے ان کے مقررہ اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا

امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ روس کی جانب سے شام میں جاری کارروائی کے دوران داغے گئے کروز میزائلوں میں سے چار ایرانی سرزمین پر گرے تھے۔

روسی بحری جہازوں سے شام میں میزائل حملے

نیٹو کی رکن ممالک کے تحفظ کی یقین دہانی

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی محکمۂ دفاع کے حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چار روسی میزائل شام کی بجائے ایران میں گرے تھے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں کہ میزائل کس مقام پر گرے اور ان سے کوئی نقصان بھی ہوا ہے یا نہیں۔

روسی وزارتِ دفاع نے امریکی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام میزائل ہدف پر لگے تھے۔

وزارت کے ترجمان جنرل آئیگور کوناشنکوف نے کہا ہے کہ ’کوئی بھی پیشہ ور یہ جانتا ہے ایسی کارروائیوں میں نشانہ بننے سے پہلے اور بعد میں بھی ہدف کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ہمارے تمام میزائلوں نے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔‘

ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے بھی اس دعوے کو روس کے خلاف امریکہ کی نفسیاتی جنگ کا حصہ قرار دیا ہے۔

البتہ ایک اور ایرانی نیوز ایجنسی ارنا نے بدھ کو یہ خبر دی تھی کہ مغربی آذربائیجان نامی صوبے کے ایک گاؤں میں ایک فضا سے آنے والی ایک نامعلوم چیز کریش ہوئی ہے۔ یہ صوبہ روسی میزائلوں کے مجوزہ راستے پر واقع ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزرائے خارجہ کی گفتگو کے دوران شام کی فضائی حدود میں کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کا معاملہ زیرِ بحث رہا

روس نے بدھ کو بتایا تھا کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے بحیرۂ کیسپیئن میں موجود جنگی بحری جہازوں سے شام کے شمالی اور شمال مغربی صوبوں میں 11 مقررہ اہداف پر 26 کروز میزائل داغے گئے تھے۔

لاوروو اور کیری کی بات چیت

ادھر روسی حکام کے مطابق ملک کے وزیرِ خارجہ سرگے لاورو اور ان کے امریکی ہم منصب جان کیری کے درمیان شام میں دونوں ممالک کی عسکری کارروائیوں پر بات ہوئی ہے۔

روس کی وزارتِ خارجہ کی ویب سائٹ پر شائع کیے گئے بیان کے مطابق جان کیری نے جمعرات کو سرگے لاورو کو فون کیا اور اس گفتگو کے دوران شام کی فضائی حدود میں کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کا معاملہ زیرِ بحث رہا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں وزرائے خارجہ نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ اور دیگر دہشت گرد گروپوں کے خلاف لڑائی میں مربوط کوششیں کرنے پر بھی بات کی۔

اسی بارے میں