برطانیہ میں سکھوں کی پہلی قومی یادگار تیار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پہلی جنگ اعظیم میں 1 لاکھ 30 ہزار سکھ لڑے تھے۔

برطانیہ کی پہلی قومی سکھ یادگار کا افتتاح یکم نومبر 2015 کو برطانیہ میں سٹیفرڈشائر میں قائم نیشنل میموریئل آربوریٹم میں ہوگا۔

یہ پہلی جنگ عظیم میں حصہ والے ایک لاکھ 30 ہزار سکھوں کی یاد میں بنائی گئی ہے۔

’ورلڈ وار ون سکھ میموریئل‘ اپنی طرز کی پہلی یادگار ہے۔

جنگ عظیم میں سکھوں نے قابل ذکر کردار ادا کیا۔ بھارتی آبادی کا اس وقت محض ایک فیصد ہونے کے باوجود وہ برطانوی بھارتی فوج کا 20 فیصد حصہ تھے اور برطانیہ کی شاہی فوج کی رجمنٹوں میں ان کی نمائندگی ایک تہائی تھی۔

اس یادگار کی تعمیر کے لیے رقم ’کک سٹارٹر‘ نامی ویب سائٹ پر ایک مہم کے ذریعے جمع کی گئی تھی۔ مختلف مذاہب اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے 200 سے زائد افراد نے ایک سے لے کر ایک ہزار پاؤنڈ تک کا عطیہ دیا۔

خیرات کے بانی اور چیئرمین جے سنگھ سوحل کے مطابق ’یہ سکھوں کے لیے کامیابی ہے کہ ان کے بزرگوں کی دلیری اور قربانی کا آخر کار اعتراف کیا گیا اور ایک قومی یادگار بنائی گئے۔ بہت عرصے سے جنگ میں انڈیا کی شراکت کو نظر انداز کیا گیا ہے لیکن اب نوجوان لوگوں کے پاس ایک یاد کی علامت ہے جسے وہ نیشنل میموریئل آربوریٹم میں جا کر دیکھ سکتے ہیں اور جس سے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔

Image caption پہلی جنگ اعظیم میں حصہ لینے والےسکھوں کی یاد میں برطانیہ کے ضلع سٹیفرڈشر میں یادگار تعمیر کی گئی ہے۔

مسلح افواج کے وزیر پینی مورڈانٹ نے سکھ برادری کو خراج تحسین پیش کیا: ’سکھ سروس کے اہلکاروں نے شاندار طریقہ سے برطانوی مسلح افواج میں خدمات انجام دیں۔ ہم ان کے کردار اور ان کے برطانوی مسلح افواج کے ساتھ مضبوط تعلقات کو تسلیم کرتے ہیں جو آج تک برقرار ہیں۔

’مسلح افواج کے وزیر کی حیثیت سے میں ان کی تمام کامیابیوں کا شکر گزار ہوں۔ ان کی کوششوں نے آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر دنیا قائم کرنے میں مدد کی ہے۔ محکمہ دفاع کو احساس ہے کہ لوگ ہمارا اہم ترین اثاثہ ہیں۔ ہم اپنی کارروائیوں جاری رکھیں گے جو کہ برطانوی معاشرے کی عکاسی کرتی ہیں اور سکھ برادری سمیت تمام کمیونٹیوں سے افراد بھرتی کریں گے۔‘

وردی فاؤنڈیشن کے رہنما اور یادگار کے سرپرست پیٹر سنگھ وردی کہتے ہیں ’اب چونکہ ملک کے یادگاری مرکز میں ایک مستقل قومی یادگار بنی ہے سکھوں کی قربانی اب ہمیشہ یاد رہے گی۔ یہ مقبرہ یقینا مسقبل کی نسلوں کی حوصلہ افضائی کرے گا کہ وہ اپنے بزرگوں کے نقشے قدم پر چلیں اور ہمارے معاشرے میں اچھے کاموں کے ساتھ شریک ہوں۔‘

افتتاح کے موقع میں معزز افراد کی جانب سے تقاریر، ایک برطانوی فوجی بینڈ اور دستوں کی طرف سے ماضی کے واقعات کو یاد کرنا شامل ہوں گے۔ یادگاری تقریب میں سکھوں کے عقیدے کے مطابق دعائیں اور جنگ میں لڑنے والوں کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی سے اختیار کی جائے گی۔

اسی بارے میں