’ہم ایک عام زندگی چاہتے ہیں لیکن وہ نہیں مل رہی‘

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption قانونی طور پر یہ پناہ گزین نہیں بلکہ ایسے مہمان ہیں جنھیں جنیوا کنونشن کے تحت عارضی تحفظ دیا گیا ہے

’میں نے تین ماہ پہلے تک اپنا سامان نہیں کھولا تھا۔ یہی سوچتی تھی کہ تیار رہوں کیونکہ کسی بھی وقت واپس شام جانا پڑے گا۔ لیکن اب میری آس ٹوٹ گئی ہے۔‘

یہ الفاظ ہیں ایک نوجوان شامی پناہ گزیں خاتون کے جو حمص میں جاری لڑائی کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑ آئی ہیں اور اب ترک شہر استنبول میں قیام پذیر ہیں۔

جرمنی میں پناہ گزینوں کی قیام گاہوں پر حملوں میں تین گنا اضافہ

جب انھوں نے اپنے خاندان کے ساتھ شام چھوڑا تو ان کا خیال تھا کہ یہ نقل مکانی دو ہفتوں کی ہے لیکن اب اس واقعے کو چار برس بیت چکے ہیں۔

مارچ 2011 میں شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے 40 لاکھ سے زیادہ شامی ملک چھوڑ چکے ہیں اور ان میں سے آدھے سے زیادہ اس وقت ترکی میں رہ رہے ہیں اور اسی وجہ سے ترکی اس وقت دنیا میں پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے۔

اس نوجوان خاتون کی بہن اب ان کے ساتھ نہیں۔ وہ دو ماہ قبل اپنے بچوں کے ہمراہ غائب ہوئیں۔ دو دن تک کوئی اطلاع نہ تھی اور پھر انھیں یونان سے ایک فون آیا۔

’وہ میری بہن تھی۔ کہہ رہی تھی کہ وہ سب خیریت سے ہیں نہ تو سمندر میں ڈوبے اور نہ ہی کسی گولی کا شکار ہوئے۔‘

ہر روز تقریباً پانچ ہزار شامی ایسی چھوٹی کشتیوں پر ترکی سے یونان کا سفر کرنے نکلتے ہیں جن کا مقابلہ بحیرہ ایگیئن کی تندوتیز موجوں سے ہوتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق صرف رواں برس کے دوران ہی ساڑھے پانچ لاکھ سے زیادہ پناہ گزین بحیرۂ روم کے راستے یورپ میں داخل ہوئے ہیں اور اس کوشش میں تین ہزار جان سے گئے۔

شامی خاتون نے مجھے بتایا کہ ان کی بہن اب جرمنی پہنچ چکی ہیں لیکن وہ اس کے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ترکی اس وقت دنیا میں پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے

’ہم خبروں میں دیکھتے ہیں کہ شامیوں کو یورپ پہنچنے کے لیے کن مشکلات کا سامنا ہے اور اب آگے ان کے لیے کیا ہے؟ یورپ آج تو انھیں قبول کر رہا ہے لیکن کب تک کرے گا؟ وہ بھی ہم سے تنگ آ جائیں گے جسے ترک آ گئے ہیں۔‘

مہاجرین اور پناہ گزینوں کے حالات پر گہری نظر رکھنے والے ترک ماہر مراد اردگان کا کہنا ہے کہ ترک اب تک شامیوں کے لیے دل کھول بیٹھے ہیں لیکن یہ رویہ بدل بھی سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’20 لاکھ پناہ گزین یہاں آئے ہیں اور زندگی ایسے گزر رہی ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔‘

مراد اردگان کے مطابق ’لوگ صرف شامی بھکاریوں سے پریشان ہیں لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ صرف استنبول میں چار لاکھ شامی رہ رہے ہیں۔‘

ترکی نے شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے فوراً بعد سے ہی پناہ گزینوں کو قبول کرنا شروع کر دیا تھا۔

ان لاکھوں افراد کے لیے حکومت نے 20 پناہ گزین کیمپ بنائے ہیں جہاں انھیں صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں لیکن ان پناہ گزینوں میں سے 90 فیصد ان کیمپوں کی بجائے شہروں میں رہ رہے ہیں اور اسی لیے ان کے مستقبل کے بارے میں خدشات پائے جاتے ہیں۔

ان افراد کو پناہ گزین کا درجہ نہیں دیا گیا اور قانونی طور پر یہ ایسے مہمان ہیں جنھیں جنیوا کنونشن کے تحت عارضی تحفظ دیا گیا ہے۔

مراد اردگان کے مطابق اس وجہ سے انھیں کوئی قانونی حقوق حاصل نہیں ہیں۔

چونکہ وہ قانونی طریقے سے ترکی نہیں آئے اس لیے انھیں کام کرنے کی اجازت نہیں اور نہ ہی انھیں حکومت سے مالی امداد مل سکتی ہے اور اس صورتحال کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنے والے بھی موجود ہیں۔

ایک نوجوان شامی نے مجھے بتایا کہ اس نے کپڑا بنانے والے کارخانے میں ایک ماہ سے زیادہ عرصے کام کیا لیکن اسے تنخواہ کے نام پر کچھ نہیں ملا اور وہ کئی ماہ سے سڑکوں پر سونے پر مجبور ہے۔

صحاف کی عمر 50 سال کے لگ بھگ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے 52 سالہ خاوند نے چار ماہ تک قلی کا کام کیا اور پھر انھیں کہا گیا کہ وہ یہ کام کرنے کے قابل نہیں۔ صحاف کا کہنا ہے کہ انھیں چار میں سے صرف ایک ماہ کی ہی تنخواہ دی گئی۔

ایسے پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کی رکن گزیم الکداہ کا کہنا ہے کہ اکثر شامی 13 سے 14 گھنٹے روزانہ کام کرتے ہیں اور انھیں عام تنخواہ سے آدھی رقم دی جاتی ہے اور کچھ کو وہ بھی نہیں ملتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ ڈاکٹر اور استاد شہر کی سڑکوں پر پانی فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ OYKU ALTUNTAS
Image caption ایک اندازے کے مطابق ترکی میں موجود شامی بچوں میں سے صرف 20 فیصد ہی سکول جا رہے ہیں

ہیومن رائٹس واچ کے بل فریلک کا کہنا ہے کہ ترکی کے لیے ایک بڑی مشکل یہ بات یقینی بنانا ہے کہ ہزاروں شامی بچے ایک گمشدہ نسل نہ بن جائیں۔

اگرچہ شامی پناہ گزین بچوں کو ترکی میں مفت تعلیم کی سہولت دی گئی ہے لیکن وہ عربی بولتے ہیں اور زبان کی مشکل ان کے آڑے آ رہی ہے۔

ترک حکومت نے عربی زبان میں تعلیم دینے اور شامی نصاب پڑھانے والے سکول تو بنائے ہیں لیکن ایک اندازے کے مطابق ترکی میں موجود شامی بچوں میں سے صرف 20 فیصد ہی سکول جا رہے ہیں۔

لینا نامی ایک اور شامی خاتون، جن سے میں ملا، کہتی ہیں کہ وہ یورپ جانا نہیں چاہتیں لیکن خدشہ ہے کہ انھیں وہاں جانے پر مجبور کر دیا جائے گا۔

’ہمارے پاس کام کرنے کا اجازت نامہ نہیں۔ ہم یہ نہیں چاہتے کہ کوئی ہمیں خوراک یا پیسے دے۔ ہم ایک عام زندگی چاہتے ہیں لیکن ایسا ممکن نہیں ہو رہا۔‘

یہی وجہ ہے کہ وہ سمجھتی ہیں کہ ان کے پاس واحد راستہ یورپ چلے جانا ہی ہے۔

’اور کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ لوگ خود کو سمندر کے حوالے کر رہے ہیں اور مارے جا رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں