’گرجا گھر کو بچاؤ ورنہ مسلمان ہو جائیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ GEM Televizija
Image caption گاؤں والے نئے چرچ کی تعمیر کے خلاف نہیں ہیں لیکن اُن کا موقف ہے کہ پہلے پرانے چرچ کو محفوظ کیا جائے

اطلاعات کے مطابق سربیا کے ایک گاؤں کے رہائشیوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر اُن کے طوفان سے متاثر ہونے والے گرجا گھر کو نہیں بچایا گیا تو وہ اِسلام قبول کرلیں گے۔

خبر رساں ویب سائٹ آلو نیوز کے مطابق سربیا کے دارالحکومت بلغراد کے قریب پیرش فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے یہ دھمکی سربیا کے قدامت پسند چرچ کے سربراہ پیٹریارک آئرینیج کو ایک خط کے ذریعے دی ہے۔

خط میں لکھا گیا ہے کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ اِس مہم کو واپس لیا جائے تو چرچ کی عمارت کو تعمیر کیا جائے اور اُسے توڑا نہیں جائے۔

مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ: ’اگر ہمیں آپ کی حمایت نہیں ملی، تو ہم مجبوراً اسلام قبول کرلیں گے تاکہ سربیا کے قانون کے تحت ہمیں اپنی عبادت گاہوں کا بہتر تحفظ میسر ہو۔‘

گاؤں والے اپنے اِس اقدام کا موازنہ ’شہادت‘ سے کر رہے ہیں تاہم اُن کا کہنا ہے مذہب کی تبدیلی کے باوجود ’یسوع مسیح‘ اُن کے دل میں ہی رہیں گے۔‘

اِس تحریک کا آغاز جولائی میں ہوا تھا جب ایک غیر معمولی طاقتور طوفان میں 150 سالہ پرانے گرجا گھر کی چھت تباہ ہوگئی تھی۔

مقامی عبادت گزار مِرکو ٹیزک کا خیال ہے کہ کلیسا کی پرانی عمارت کو گِرا کر اُس کی جگہ نئی عمارت تعمیر کرنی چاہیے، کیونکہ زمین کھسکنے کے باعث عمارت کی بنیادیں کمزور ہوگئی ہیں۔

لیکن خط تحریر کرنے والے شخص پریڈریگ لیزاریوک نے ریڈیو سراجیو سے گفتگو میں بتایا کہ جیسا کہ وہ پیشہ ور ماہر ارضیات ہیں تو اُنھیں معلوم ہے کہ یہاں زمین نہیں کھسکی ہے۔

لیزاریوک چرچ تعمیر کرنے والے افراد کی نسل میں سے ہیں۔

گاؤں والے نئے چرچ کی تعمیر کے خلاف نہیں ہیں لیکن اُن کا موقف ہے کہ پہلے پرانے چرچ کو محفوظ کیا جائے۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’ اگر ہم کرسکتے تو مزید پانچ چرچ بناتے لیکن پہلے ہم اُس کو تو بچالیں جو ہمارے پاس پہلے سے موجود ہے۔‘