روسی بمباری کے بعد شامی فورسز کی ’اہم پیش قدمی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حکومتی افواج کی پیش قدمی کے بعد باغی جنگجو بھی مورچہ بند ہو رہے ہیں

شامی فورسز، جن کی حمایت لبنانی تنظیم حزب اللہ بھی کر رہی ہے ، کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے کی جانے والی شدید فضائی بمباری کے بعد انھوں نے باغیوں کے خلاف اہم پیش قدمی کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق حکومتی افواج نے ادلب، حما اور لاذقيہ اور رقہ صوبوں میں پیش قدمی کی ہے۔

روس کا شام میں فضائی حملے بڑھانے کا اعلان

’روس شام میں محفوظ فضائی کارروائیوں پر بات چیت کرنے کو تیار‘

روس کا کہنا ہے کہ اس کے طیاروں نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شام میں 60 کے قریب فضائی حملے کیے ہیں جس میں انھوں نے خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم کو نشانہ بنایا ہے۔

تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ روسی بمباری سے زیادہ نقصان حکومت اور دولت اسلامیہ کے خلاف لڑنے والے باغی جنگجوؤں کو ہوا ہے۔

مرکزی میدان جنگ دمشق کو دوسرے بڑے شہروں جس میں حلب بھی شامل ہے جوڑنے والی اہم شاہرہ سے بہت قریب آچکا ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ صدر بشار الاسد کی افواج باغیوں کو ادلب کے مقام پر روکنے کی کوشش کریں گی۔

بی بی سی کے عرب امور کے مدیر سیبیسٹین اوشر کا کہنا ہے کہ روس کی مداخلت سے قبل ادلب باغیوں اور ان کے اتحادیوں کے قبضے میں چلا گیا تھا جس سے بشار الاسد کے ساتھ ساتھ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی کو بھی خطرہ تھا۔

روس کا کہنا ہے کہ اس کی 30 ستمبر سے شروع ہونے والی فضائی کارروائیاں شامی حکومت کے تعاون سے کی جا رہیں ہیں۔

اتوار کو روسی صدر ولادی میر پوتن کا کہنا تھا کہ ’تازہ فضائی کارروائیاں گذشتہ منصوبوں کا حصہ ہیں۔‘

روسیا 24 نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم خلا اور فضا سے مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘

اسی بارے میں