سنیچر کے دھماکوں کے بعد ترکی میں سوگ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کچھ حاضرین نے دھماکوں والے مقام پر یادگاری پھول رکھنے کی کوشش کی

سنیچر کے روز ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں دو دھماکوں میں ایک سو کے قریب افراد کی ہلاکت کے بعد اتوار کو ہزاروں لوگ ہلاک شدگان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے شہر کے مرکز میں جمع ہوئے ہیں۔

حکومت نے گذشتہ روز ہونے والے بم دھماکوں کے بعد تین روز کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔

اس موقعے پر کچھ حاضرین نے دھماکوں والے مقام پر یادگاری پھول رکھنے کی کوشش کی جس پر پولیس اور ان کے درمیان دھکم پیل بھی ہوئی۔

سنیچر کو ریلی کا اہتمام کرنے والی کُرد نواز جماعت ’ایچ ڈی پی‘ کا دعویٰ ہے کہ دھماکوں میں 128 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دیگر ذرائع سے ابھی تک 95 افراد کے مارے جانے کی تصدیق ہوئی ہے۔

مظاہرین نے دھماکوں کی ذمہ داری حکومت پر عائد کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت ریلی کے موقعے پر ضروری حفاظتی اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔ حکومت نے ان الزامات سے انکار کیا ہے۔

وزیر اعظم احمد دعوتوگلو نے کہا ہے کہ اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ یہ دھماکے دو خود کش بمباروں نے کیے تھے۔

دھماکوں میں 100 ہلاک، ملک میں تین روزہ سوگ

ترکی میں کرد باغیوں کے حملوں میں اضافہ کیوں؟

’کردوں کے ساتھ جنگ بندی قائم نہیں رہ سکتی‘

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ دھماکوں میں 245 افراد زخمی ہیں جن میں سے 48 کی حالت تشویشناک ہے۔

ترکی میں ٹی وی پر دکھائے جانے والے مناظر میں لوگوں کو گھبراہٹ میں بھاگتے اور خون میں لت پت زمین پر پڑے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اتوار کو دھماکوں کے مقام پر اجتماع کا اہتمام ایچ ڈی پی جانب سے کیا گا جس میں جماعت کے قائدین نے شرکت کی

نامہ نگاروں کے مطابق انقرہ میں عام لوگوں کو خدشہ ہے کہ اب ملک میں تشدد میں اضافہ ہو جائے گا اور آئندہ تین ہفتوں میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں حکومت امن عامہ برقرار رکھنے میں ناکام ہو جائے گی۔

انقرہ سے بی بی سی کے نامہ نگار مارک لوون کا کہنا ہے کہ جولائی میں ’پی کے کے‘ اور ترک حکومت کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے ختم ہونے کے بعد سے ترکی دونوں جماعتوں کے حامیوں کی جانب سے ایک دوسرے پر حملوں میں گِھر چکا ہے اور کردوں اور ترک قوم پرستوں کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہو چکا ہے۔

نومبر کی دھواں دھار انتخابی مہم کے دوران اس بات کے خدشات بڑھ گئے تھے کہ ملک میں کوئی بُرا واقعہ ہونے والا ہے۔

مارک لوون کے مطابق کرد نواز ایچ ڈی پی کی جانب سے سنیچر کے دھماکوں کا الزام حکومت پر عائد کرنے کا واضع مطلب یہی ہے کہ ایچ ڈی پی ’اصل ریاست‘ کی جانب اشارہ کر رہی ہے اور جماعت کے خیال میں ترک قوم پرست حکومت میں شامل طاقتور عناصر کی تائید یا اس کے بغیر بھی کرد نواز لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

نامہ نگار کا مزید کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں مغرب کے سب سے اہم اتحادی، یعنی ترکی کو اب ایک طوفان کا سامنا ہے۔ ملک میں مسلسل گہری ہوتی ہوئی سیاسی تقسیم، معاشی بحالی کے بلبلے کے پھٹ جانے کے خدشات، ’پی کے کے‘ کے خلاف بڑھتی ہوئی کشیدگی، دولتِ اسلامیہ کی جانب سے دھمکیوں میں اضافہ، اور 20 لاکھ سے زیادہ شامی پناہ گزینوں کی آمد ترکی کے لیے کسی طوفان سے کم نہیں۔

مارک لوون کے بقول انقرہ میں سنیچر کو جو افسوسناک واقعہ ہوا ہے وہ اس تاریک دور کی نشاندھی کرتا ہے جس کا سامنا آج ترکی کو ہے۔

اسی بارے میں