’امریکی فوجی برگڈال کو قید کی سزا نہیں ہونی چاہیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سنہ 2009 میں اپنی ٹکڑی کو چھوڑ کر بھاگنے کے بعد ان کو طالبان نے اغوا کرلیا تھا

امریکہ کی فوجی عدالت نے فیصلہ سنایا ہے کہ طالبان کی قید سے رہائی ملنے کے بعد فوج سے فرار ہو جانے والے سارجنٹ بو برگڈال کو قید کی سزا نہیں ملنی چاہیے۔

برگڈال کے وکلا کے مطابق، سارجنٹ برگڈال کا کیس سننے والے آرمی افسر نے یہ بھی کہا کہ برگڈال کو کم درجے کے کورٹ مارشل کا سامنا ہو۔

لیکن ابھی تک امریکی فوج نے اس تجویز کی تصدیق نہیں کی ہے۔

سارجنٹ برگڈال کو گذشتہ سال متنازع قیدیوں کے تبادلے میں رہا کردیا گیا تھا۔

سنہ 2009 میں اپنی چیک پوسٹ چھوڑ کر بھاگنے کے بعد ان کو طالبان نے اغوا کرلیا تھا اور رہائی کے بعد ان پر فوج کو چھوڑ کر بھاگنے اور دشمن کے سامنے بدسلوکی کا الزام لگایا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption برگڈال کو پانچ طالبان قیدی کی رہائی کے عوض حاصل کیا گيا تھا

پانچ طالبان کمانڈروں کی رہائی کے بدلے انھیں رہا کروانے پر امریکہ کے سیاسی حلقوں نے شدید اعتراض کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ اقدام دہشت گردوں کے ساتھ امریکی کے پالیسی کے خلاف ہے۔

سارجنٹ برگڈال کے وکیل یوجین فیڈل کا کہنا ہے کہ اگر ان پر کم درجے کا کورٹ مارشل ہوتاہے تو ان کی زیادہ سے زیادہ سزا عہدے میں کمی کی جائے گی یا پھر ان پر بدسلوکی کا چارج لگایا جائے گا۔

لیکن حتمی فیصلہ نہ آنے تک ان پر لگنے والے الزامات کی سزا فی الحال زیادہ سے زیادہ عمر قید ہے۔

اس فیصلے کے بارے میں کوئی رائے دیے بغیر امریکی فوج نے کہا ہے کہ ’ہم فوجی عدالت کے عمل، ملزم کے حقوق اور مقدمے کی شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنانے کے لیے اپنی حمایت جاری رکھیں گے۔‘

اسی بارے میں