جنوبی کوریا میں تاریخ حکومت کی مرضی سے

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption حکومت کے اس اقدام پر تعلیمی اداروں اور حریف سیاسی جماعتوں نے سخت تنقید کی ہے

جنوبی کوریا کی حکومت نے ثانوی تعلیمی اداروں کے نصاب میں شامل تاریخ کے مضمون کی کتاب پر شرائط کے حوالے سے ایک متنازع منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس وقت جنوبی کوریا میں ثانوی تعلیمی ادارے آٹھ مختلف ناشروں کی چھپی ہوئی تاریخ کی کتاب میں سے کسی ایک کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ سنہ 2017 سے ملک میں ثانوی تعلیم فراہم کرنے والے تمام اداروں پر لازم ہو گا کہ وہ حکومت کی جانب سے فراہم کی گئی تاریخ کی کتاب استعمال کریں۔

حکومت کے اس اقدام پر تعلیمی اداروں اور حریف سیاسی جماعتوں نے سخت تنقید کی ہے۔

سیئول میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق حکومت کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں پڑھائی جانے والی تاریخ کی نصابی کتب میں بائیں بازوں کی جانب رجحان ہے اور کتابوں میں امریکہ مخالف اور شمالی کوریا کی حمایت میں مواد زیادہ ہے۔

حکومت کی جانب سے متعارف کروائی گئی نئی نصابی کتاب کو ’تاریخ کی درست کتاب‘ کا نام دیا گیا ہے اور اسی کتاب کو حکومت کے نامزد کردہ اساتذہ کے ایک پینل نے ترتیب دیا ہے۔

سیاسی مخالفین اور تعلیمی اداروں نے اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے اسے ’تاریخ کو مسخ کرنے‘ کے مترادف قرار دیا ہے۔

طالبِ علموں نے حکومتی فیصلے کے خلاف سینچر کو احتجاجی جلوس نکالا۔ جلوس میں شامل طلبہ نے کوریا کے مقامی روزنامے کو بتایا کہ ’ان نصابی کتابوں کے ذریعے حکومت تاریخ پڑھانے کے طریقے میں مداخلت کرنا چاہتی ہے۔ آزادی اور تعلیم میں سیاسی غیر جانبداری کا حق آئین میں موجود ہے۔‘

جنوبی کوریا کی حکمران جماعت کے سربراہ نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ حکومت کی جانب سے شائع کی جانے والی نصابی کتابیں ’غیر جانبدار‘ ہوں گی کیونکہ ’طلبہ اور اُن کے والدین موجودہ نصابی کتابوں کی وجہ سے ناخوش ہیں۔‘

نامہ نگار کے مطابق مشرقی ایشیا میں تاریخ عموماً تنازع کی وجہ رہی ہے، جس کے سبب سرحدی اور سفارتی تنازعات نے جنم لیا ہے۔

اسی بارے میں