زندہ رہنے کے لیے صحرا میں چیونٹیوں پر گزارہ

تصویر کے کاپی رائٹ WA Police
Image caption ریگ فوگرڈی ریاست ویسٹرن آسٹریلیا میں چھ روز قبل ایک جنگلی اونٹوں کے تعاقب کرتے ہوئے لاپتہ ہو گئے تھے

آسٹریلیا میں پولیس کا کہنا ہے کہ ملک کے صحرائی علاقے میں چھ دن سے لاپتہ 62 سالہ شہری زندہ رہنے کے لیے چیونٹیاں کھاتا رہا۔

ریگ فوگرڈی ریاست مغربی آسٹریلیا میں چھ روز قبل جنگلی اونٹوں کا تعاقب کرتے ہوئے لاپتہ ہو گئے تھے۔

جرمنی میں زہریلی کھمبیاں کھانے سے درجنوں پناہ گزین بیمار

منگل کو پولیس کے کھوجیوں نے ریگ کو اس جگہ سے 15 کلومیٹر دور ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے تلاش کر لیا جہاں سے وہ گم ہوئے تھے۔

ریگ کے اہل خانہ کہتے ہیں کہ ریگ تجربہ کار شکاری ہیں لیکن انھوں نے اب ریگ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایک سیٹلائٹ فون خرید لیں۔

ریگ ریٹائرڈ کان کن ہیں۔ لاپتہ ہوتے وقت وہ صرف ایک ٹی شرٹ، نیکر، ٹوپی اور چپل پہنے ہوئے تھے۔

صحرا کی شدید گرمی میں وہ بظاہر سمتوں کا تعین کھو بیٹھے تھے۔

پولیس کے سپرنٹینڈنٹ اینڈی گریٹ وڈ نے اے بی سی ریڈیو کو بتایا کہ جب ریگ کو تلاش کیا تو وہ ’جسم میں پانی کی کمی کی وجہ سے بدحواس ہو گئے تھے تاہم طبی امداد ملنے کے بعد ان کی حالت بہتر ہونا شروع ہوگئی ہے۔‘

سپرنٹنڈنٹ نے ریگ کی ’زبردست‘ مہارت کی تعریف بھی کی اور کہا کہ ’بہت سے لوگ اس صورت حال میں زندہ بچ نہ پاتے۔‘

انھوں نے کہا: ’بڑی بات تو یہ ہے کہ گذشتہ دو دن ریگ نے ایک درخت کے نیچے لیٹ کر چوٹیاں کھا کر گزارے ہیں۔ وہ زندہ رہنے کے لیے اس حد تک چلے گئے۔‘

ریگ کی بہن کرسٹین اوگڈن نے اخبار ویسٹرن آسٹریلیا سے کہا کہ انھوں نے ہمت نہیں ہاری۔ انھوں نے کہا: ’جب میں کل رات کو سونے جا رہی تھی تو میں نے اپنے آپ سے کہا: ’’کل ریگ مل جائے گا۔ مجھے نہیں پتہ تھا کہ کیا ہو گا لیکن مجھے لگ رہا تھا کہ وہ مل جائے گا۔‘

اسی بارے میں