’عراق بھی مسلح ڈرون استعمال کرنے والے ممالک میں شامل‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سی ایچ فور کو خفیہ معلومات جمع کرنے کے ساتھ ساتھ حملوں کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے

عراق بظاہر دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہوگیا ہے جو عسکری کارروائیوں کے لیے مسلح ڈرون طیارے استعمال کر رہے ہیں۔

عراقی فوج کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں چین کے فراہم کردہ، ہتھیاروں سے لیس سی ایچ فور ڈرون کا رن وے پر معائنہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

چینی ساختہ ڈرون کی عراقی فوج کو ممکنہ فروخت کی یہ دھندلی تصاویر پہلی مرتبہ مارچ میں منظرِ عام پر آئی تھیں۔

اگر عراقی فوج اب اسے استعمال کر رہی ہے تو یہ اس ملک کی دفاعی صلاحیت میں ایک اچھا اضافہ ثابت ہو سکتا ہے جس کی فضائیہ تعمیرِ نو کے مراحل سے گزر رہی ہے۔

سی ایچ فور کو خفیہ معلومات جمع کرنے کے ساتھ ساتھ حملوں کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

عراق کو چینی ہتھیاروں کی فروخت بغداد کی اپنے ہتھیاروں کے لیے ذرائع کو متنوع بنانے کی بڑھتی ہوئی خواہش اور امریکہ پر انحصار ختم کرنے کو ظاہر کرتی ہے۔

گذشتہ ایک سال کے دوران عراق کو روس، ایران اور چین سے ہتھیار موصول ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عراقی وزیرِ دفاع چینی ساختہ ڈرون کا معائنہ کرتے دیکھے گئے تھے

لندن کے انٹرنیشنل انسٹیٹوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز کے ایک تحقیقی تجزیہ کار جوزف ڈیمپسی کا کہنا ہے کہ ’مسلح ڈرون برآمد کرنا چین کی رضامندی کی ایک اور مثال ہے۔‘

اس سال کے آغاز میں نائیجیریا کو بیجنگ کی جانب سے بہت سے سی ایچ تھری ڈرون طیارے موصول ہوئے۔ خیال ہے کہ نائجیریا انھیں بوکوحرام کے عسکریت پسندوں کے خلاف جاری مہم میں استعمال کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ ’ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ چین پاکستان کے ساتھ بھی کسی قسم کی ٹیکنالوجی کا تبادلہ کرنا چاہتا ہے جبکہ پاکستان کا ذاتی ڈرون پروگرام چین سے بہت زیادہ متاثر نظر آتا ہے۔‘

پاکستان کے مسلح براق ڈرون طیارے کی نومبر 2013 میں رونمائی کی گئی جو چینی سی ایچ تھری طیارے کے مماثل حملوں کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مسلح ڈرون طیاروں کے پھیلاؤ نے اسلحے کی روک تھام کرنے والے کئی اداروں اور انسانی حقوق کے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

ابتدائی طور پر ڈرون کا استعمال چند مغربی اقوام بالخصوص اسرائیل اور امریکہ تک ہی محدود تھا لیکن اب ان کا استعمال تیزی سے بڑھنے لگا ہے۔

اسی بارے میں