’ملائیشیئن طیارہ روسی ساختہ میزائل کا نشانہ بنا تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق مسافر طیارے کو روسی ساختہ بک میزائل سے نشانہ بنایا گیا

ڈچ سیفٹی بورڈ کی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یوکرین کی فضائی حدود میں تباہ ہونے والا ملائیشیئن ایئر لائنز کا طیارہ روسی ساختہ میزائل کا نشانہ بنا تھا۔

امریکہ نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے اس واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے سلسلے میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔

ایم ایچ 17 کے ملبے سے روسی میزائل کے ٹکڑے برآمد

ایم ایچ 17 حادثے کی پہلی برسی پر یادگاری تقریب

ملائیشیئن ایئر لائنز کی پرواز ایم ایچ 17 ایمسٹرڈیم سے کوالالمپور جا رہی تھی کہ رواں برس 17 جولائی کو شمالی یوکرین میں باغیوں کے زیرِ اثر علاقے میں گر کر تباہ ہو گئی تھی۔

حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں 196 افراد ولندیزی تھے اور دس کا تعلق برطانیہ سے تھا۔

اس واقعے کی تحقیقات کرنے والے ہالینڈ کے سیفٹی بورڈ کا کہنا ہے کہ کہ مسافر طیارے کو روسی ساختہ بک میزائل سے نشانہ بنایا گیا، جس کے فوری بعد مسافر اپنے حواس کھو بیٹھے۔

رپورٹ کے مطابق میزائل نے بائیں جانب سے جہاز کو نشانہ بنایا جس کے بعد وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔

رپورٹ میں یہ تو نہیں بتایا گیا کہ بوئنگ 777 کو میزائل سے کس نے نشانہ بنایا لیکن یہ کہا گیا ہے کہ مشرقی یوکرین کی فضائی حدود کو پروازں کے لیے بند ہونا چاہیے۔

مغربی ممالک اور یوکرین کا کہنا ہے کہ روس نواز باغیوں نے مسافر طیارے کو نشانہ بنایا لیکن روس کا کہنا ہے کہ میزائل یوکرین کی حکومت کے زیر قبضہ علاقے سے داغا گیا تھا۔

اس مسافر جہاز کو 17 جولائی 2014 کو اجب نشانہ بنایا گیا تو ان دنوں علیحدگی پسند باغیوں اور یوکرین کی فوج کے درمیان لڑائی عروج پر تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بورڈ نے جہاز کے پرزے بھی دکھائے جنھیں باغیوں کے علاقے دونیستک سے لانے کے بعد دوبارہ بنایا گیا ہے

تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میزائل کے دھماکے سے کاک پٹ میں موجود تین عملے کے ارکان تو فوری ہلاک ہوگئے تھے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا کہ کچھ مسافر جہاز کے تباہ ہونے کے ایک سے ڈیڑھ منٹ کے دورانیے میں کچھ وقت کے لیے اپنے حواس میں تھے۔

پہلے مرحلے میں ڈچ سیفٹی بورڈ نے رپورٹ کے حقائق کے بارے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو آگاہ کیا ہے۔

بورڈ نے جہاز کے پرزے بھی دکھائے جنھیں باغیوں کے علاقے دونیستک سے لانے کے بعد دوبارہ بنایا گیا ہے۔

ڈچ سیفٹی بورڈ کے صدر نے کہا کہ جہاز پر تباہی کے جو اثرات نظر آئے ہیں اُن سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ تباہی میزائل کی وجہ سے ہوئی نہ کہ اندرونی دھماکے سے یا پھر فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے۔

ڈچ سیفٹی بورڈ کے صدرنے کہا کہ ان شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے بیک میزائل سسٹم سے جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔

ملائشیا کے وزیر ٹرانسپورٹ لیو ٹیونگ لئی نے ایم ایچ 17 کو گرانے میں ملوث افراد پر قانونی چارہ جوئی کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب روس نے ڈچ سیفٹی بورڈ کی رپورٹ کو غیرمنصفانہ اور سیاسی منصوبے پر عمل کرنے کی واضح کوشش قرار دیا ہے۔

تاہم ولندیزی وزیراعظم مارک رٹے نے ملائشین ایئرلائنز کے جہاز کو مار گرانے کی مکمل مجرمانہ تفتیش میں کریملن کے ساتھ مکمل تعاون کا عندیہ دیا ہے۔

اسی بارے میں