’انقرہ دھماکوں کا تعلق دولتِ اسلامیہ سے ہے‘

Image caption سنیچر کو انقرہ میں ہونے والے دھماکوں میں کم سے کم 97 افراد ہلاک ہو گئے تھے

ترکی کے حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دارالحکومت انقرہ میں سنیچر کو امن ریلی میں خود کش حملہ کرنے والے دو افراد کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ ان کا تعلق شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے ہے۔

حکام نے خود کش حملہ آوروں کے نام یونس الگوز اور عمر دنیز بتائے ہیں۔

انقرہ کی پولیس، انٹیلیجنس اور سکیورٹی سربراہان معطل

’انقرہ دھماکوں کے پیچھے دولت اسلامیہ ہے‘

ترکی: دھماکوں میں 100 ہلاک، ملک میں تین روزہ سوگ

خیال رہے کہ سنیچر کو انقرہ میں ہونے والے دھماکوں میں کم سے کم 97 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

یہ حملے ترکی کی حالیہ تاریخ میں بدترین حملے ہیں جن کے بعد ترکی کی حکومت کے خلاف غصے میں اضافہ ہوا ہے۔

ان دھماکوں کے بعد انقرہ پولیس، انٹیلیجنس اور سکیورٹی سربراہان کو معطل کر دیا گیا ہے۔

Image caption یہ حملے ترکی کی حالیہ تاریخ میں بدترین حملے ہیں جن کے بعد ترکی کی حکومت کے خلاف غصے میں اضافہ ہوا ہے

ایک حکومتی اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار مارک لون کو استنبول میں بتایا کہ پہلا بمبار رواں برس جولائی میں ترکی کے قصبے سوروچ میں دھماکہ کرنے والے شخص کا بھائی ہے۔ سوروچ میں ہونے والے دھماکے میں 30 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ دوسرے بمبار کو شام میں دو بار دیکھا گیا ہے۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ دونوں افراد جن کے بارے میں یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ ان کا تعلق دولتِ اسلامیہ سے ہے کے بارے میں ترکی کے وزیرِ اعظم احمد داؤد اوغلو کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے پیچھے دولتِ اسلامیہ اور کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

ہمارے نامہ نگار کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم کا یہ کہنا غیر معمولی ہے کیونکہ دونوں گروہ کٹر دشمن ہیں۔

دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے بدھ کو جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔

Image caption ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے بدھ کو جائے وقوعہ کا دورہ کیا

رجب طیب اردوغان پر ترکی کی حالیہ تاریخ میں بدترین قومی سانحے پر چار دن گذرنے کے بعد قوم سے خطاب نہ کرنے پر تنقید کی جا رہی ہے۔

دھماکوں کے بعد پہلی بار عوام کے سامنے بات کرتے ہوئے صدر اردوغان نے تسلیم کیا کہ یہ انٹیلیجنس کی ناکامی ہے۔

ترکی میں چہ میگوئیاں جاری ہیں کہ حکومت ان حملوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔

ترکی میں امن ریلی میں دھماکوں کے بعد حالات کشیدہ ہیں اور ملک میں عام انتخابات کا انعقاد بھی قریب ہے۔

حکمراں جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (اے کے پی) نے جون میں مجموعی اکثریت کھو دی تھی اور ان کے مقابلے میں کرد نواز جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (ایچ ڈی پی) کو کامیابی ملی تھی، جو سنیچر کو منعقدہ ریلی کا بھی حصہ تھی۔

اسی بارے میں