بحیرۂ جنوبی چین میں مداخلت سے باز رہیں: چین

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption واشنگٹن کا خیال ہے کہ چین متنازعہ ملکیت والے علاقوں میں اپنے طاقت ظاہر کرنے کے لیے عسکری طاقت میں اضافہ کر رہا ہے۔

چین نے امریکی کی جانب سے بحیرۂ جنوبی چین کے ایک متنازع جزیرے پر جنگی بحری جہاز بھیجنے کے اعلان پر کڑی تنقید کی ہے۔

ملک کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے بالواسطہ طور پر امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ ’بعض ممالک بحیرۂ جنوبی چین میں بار بار اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔‘

گذشتہ ہفتے امریکی حکام نے کہا تھا کہ وہ سپارٹلی جزیرے کے علاقے میں جنگی بحری جہاز روانہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

مصنوعی جزائر کی تعمیر پر امریکہ کی چین کو تنبیہ

اس جزیرے پر چین اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے اور امریکی بیان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تنبیہی بیانات میں اضافہ ہوا ہے۔

چین پر بی بی سی کے ماہر مائیکل بریستو کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے جزیروں کی تعداد بڑھانے سے امریکہ سمیت دیگر ہمسایہ ممالک پریشان ہیں۔

واشنگٹن کا خیال ہے کہ چین متنازع ملکیت والے علاقوں میں اپنا اثرو رسوخ بڑھانے کے لیے عسکری طاقت میں اضافہ کر رہا ہے۔

چین کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے استحکام کے لیے اُس کے اقدامات جائز ہیں۔

چین اور امریکہ کے درمیان یہ تنازع اُس وقت شروع ہوا جب امریکہ کے حکام نے کہا کہ وہ بحری جنگی جہازوں کو سپارٹلی جزیرے کے حدود میں روانہ کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ US Navy
Image caption امریکہ کے حکام نے کہا کہ وہ بحری جنگی جہازوں کو سپارٹلی جزیرے کے حدود میں روانہ کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

جس کے بعد چین نے سخت بیان دیا اور ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ’ہم کسی بھی ملک کو آزادی کے دفاع کے نام پر چین کی فضائی سمندری حدود کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

منگل کو امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر نے جزیروں کی ملکیت حاصل کرنے پر ’شدید تحفظات‘ کا اظہار کرتے ہوئے امریکی منصوبے کا دفاع کیا تھا۔

انھوں نے کہا تھا کہ ’امریکہ اگر دنیا کے اُن سمندروں اور فضاؤں میں جاتا ہے جہاں بین الاقوامی قوانین کے تحت اُسے اجازت ہے تو یہ کوئی غلطی نہیں ہے اور بحیرۂ جنوبی چین بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔‘

امریکی وزیر دفاع کے اس بیان کے بعد چین کی وزارتِ داخلہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ ’میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ خطے کے بعض ممالک اپنے علاقے سے کہیں آگے بڑھ گئے ہیں۔انھوں نے بحیرۂ جنوبی چین میں طاقت کا بار بار مظاہرہ کیا اور بڑے پیمانے پر ہتھیار نصب کر رہے ہیں۔‘

ترجمان نے کہا کہ ’یہ عنصر بحیرۂ مشرقی چین میں عسکری رجحان کی بڑی وجہ ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ ممالک اس مسئلے کو بڑھاوا دینے کی فضا کو کم کریں گے اور ذمہ داری سے اپنے وعدے پورا کرتے ہوئے سرحدی حدود کی تنازعات میں کوئی موقف اختیار نہیں کرنے سے گریز کریں گے۔‘

امریکہ سمندری علاقوں میں اپنی گشت بڑھانا چاہتا ہے۔ امریکی کے فوجی جہاز نے رواں سال مئی میں متنازع ملکیت کے ایک جزیرے پر پرواز کی تھی۔

اسی بارے میں