ہتھیاروں کے قوانین: ہلیری کلنٹن کی اپنے حریف پر تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption امریکی صدر کے انتخاب کے لیے نومبر 2016 میں ووٹ ڈالے جائیں گے

ڈیموکریٹک جماعت کے صدارتی امیدواروں کے درمیان ہونے والے مباحثے کے دوران ہلیری کلنٹن نے ہتھیاروں تک عوام کی آسان رسائی کے امریکی قوانین پر اپنے حریف بارنی سینڈرز کے موقف پر انھیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

امریکہ میں فائرنگ کے واقعات میں استعمال ہونے والے خودکار ہتھیار بنانے والی کمپنیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے سے قبل جب کلنٹن سے پوچھا گیا کہ کیا ورمونٹ سے تعلق رکھنے والے سینیٹر امریکہ میں خودکار ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے حوالے سے سخت موقف رکھتے ہیں، تو ان کا کہنا تھا کہ ’نہیں، بالکل نہیں‘۔

دوسری جانب سینڈرز نے بھی شام کے اوپر نو فلائی زون کی حمایت کرنے پر کلنٹن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس سے ’تشویش ناک مسائل‘ جنم لیں گے۔

بارنی سینڈرز کے انتخابی جلسوں میں لوگوں کی بڑی تعداد نظر آتی ہے جبکہ صدارت کی دوڑ میں آگے نظر آنے والی ہلیری کلنٹن کے لیے انھوں نے کہا ہے کہ انھیں کئی اہم ریاستوں میں سخت مقابلے کا سامنا ہو گا۔

مباحثے کے دوران مکالموں کا تبادلہ زیادہ تر ان ہی دو امیدواروں کے درمیان ہوتا رہا اور دیگر تین امیدواروں کو مباحثے میں اپنی جگہ بنانے کے لیے محنت کرنی پڑی۔

دیگر تین امیدواروں میں میری لینڈ کے گورنر مارٹن اومالی، ورجینیا کے سابق سینیٹر جم ویب، اور روڈ آئی لینڈ کے سابق سینیٹر لنکن چافی شامل تھے۔

مباحثے کے دوران کلنٹن اور سینڈرز کے درمیان جو سب سے اہم مسئلہ موضوع بحث رہا وہ امریکہ میں خودکار ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کا قانون تھا۔

امریکہ میں ہمیشہ سے باعث تقسیم بننے والا یہ اہم معاملہ حال ہی میں امریکی ریاست اوریگون کے ایک کالج میں فائرنگ کے واقعے کے بعد ایک بار پھر سے موضوع بحث بن گیا ہے۔

دوران مباحثہ جب کلنٹن نے کہا کہ ان کے حریف سخت موقف اپنانے والوں میں سے نہیں ہیں تو ان کا اشارہ سنہ 2005 کی جانب تھا جب ان کے حریف نے ہتھیار بنانے والی کمپنیوں کے حق میں ووٹ ڈالا تھا۔ یہ قانون ہتھیار بنانے والی کمپینیوں کو فائرنگ کا نشانہ بننے والے متاثرین کی جانب سے کسی قسم کی عدالتی چارہ جوئی سے استثنیٰ کے بارے میں تھا۔

دونوں صدارتی امیدواروں کے درمیان دورانِ بحث سرمایہ دارانہ نظام پر بھی بات کی گئی جبکہ سابق خاتون اوّل کا کہنا تھا کہ عوام کی طرف سے اسے مسترد کرنا ایک ’سنگین غلطی‘ ہو گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مباحثے کے دوران مکالموں کا تبادلہ زیادہ تر ان ہی دو امیدواروں کے درمیان ہوتا رہا اور دیگر تین امیدواروں کو مباحثے میں اپنی جگہ بنانے کے لیے محنت کرنی پڑی

کلنٹن کا کہنا تھا کہ ’میں ترقی پسند ضرور ہوں لیکن میں ایسی ترقی پسند ہوں جو کام پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں یقین رکھتی ہے۔‘

امریکی نائب صدر جو بائیڈن صدارتی دوڑ میں حصہ لینے پر ابھی غور کر رہے ہیں اور اپنے حامیوں کی امیدوں کے برخلاف انھوں نے اس مباحثے میں شرکت نہیں کی۔

حال ہی میں کلنٹن کو جبکہ وہ وزیر خارجہ تھیں اپنا ذاتی ای میل اکاؤنٹ استعمال کرنے کے حوالے سے سوالات کا سامنا رہا ہے جس کے بعد ان کی حمایت میں کمی آنے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔

تاہم جب مباحثے کے دوران لنکن چافی کی جانب سے اس معاملے پر کلنٹن کی ساکھ پر سوال اٹھایا گیا تو وہ اس معاملے پر لاپروا نظر آئیں اور انھوں نے اس کا جواب نہیں دیا۔

چافی نے دو بار کہا کہ ان کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ ان کے خلاف کبھی کوئی سیاسی سکینڈل سامنے نہیں آیا۔ جبکہ مارٹن اومالی نے اپنی میئر شپ کے دوران ہونے والے فسادات پر اپنا دفاع کیا۔ویت نام کی جنگ میں حصہ لینے والے جم ویب کا کہنا تھا کہ ان کا عسکری پس منظر ان کی قیادانہ صلاحیتوں میں مددگار رہا ہے۔

ڈیموکریٹک امیدواروں کی کوشش تھی کہ ان کے درمیان ہونے والا مباحثہ گذشتہ دنوں رپبلکن پارٹی کے مباحثے سے مختلف ہو۔ اس مباحثے کے دوران رپبلکن صدارتی امیدواروں کی توجہ کا مرکز امیگریشن، اسقاط حمل اور ہم جنس پرستوں کی شادی جیسے سماجی مسائل تھے۔

اسی بارے میں