سر پر پھل گرا، ہرجانہ امریکی حکومت دے

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مقدمے میں پارک انتظامیہ اور امریکی حکومت کو مدعی بنایا گیا ہے

ایک سابق امریکی فوجی کا کہنا ہے کہ طویل قامت درخت ’بُنیا‘ کا سات کلو وزنی پھل گرنے سے اُن کے سر کی ہڈی ٹوٹ گئی، جس کے لیے اُنھوں نے امریکی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کردیا ہے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق شان میس کا خیال ہے کہ عملے کی غفلت کے باعث اُنہیں چوٹ لگی ہے۔

میس کا جو کہ پہلے امریکی بحریہ میں کام کرتے تھے، کہنا ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں وہ سان فرانسیسکو کے تاریخی قومی بحری پارک میں ایک درخت کے نیچے کھڑے تھے جب بھاری پھل اُن کے سر پر آگرا۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’تکلیف دہ دماغی چوٹ‘ کے باعث اُن کو دو آپریشن کرانے پڑے۔

عدالتی دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اُن کو ’شدید اور مستقل ذہنی کمزوری‘ ہو گئی ہے اور آپریشن کے بعد اُن کے دماغ میں خون رسنے کے باعث سوجن بھی ہے۔

شان میس نے ذاتی چوٹ اور ’عملے کی غفلت یا بھول سے غلط عمل‘ کے باعث ہونے والے نقصان پر پانچ ملین امریکی ڈالر کے مالی نقصان کا دعویٰ کیا ہے۔

اُنھوں نے پارک، امریکی حکومت، قوی پارک سروس اور وزارت داخلہ کو مدعی بنایا ہے۔

Image caption اِس سدا بہار درخت کے پھل کا سائز 25 سے 35 سینٹی میٹر قطر ہوتا ہے اور اِس کا وزن 30 سے 40 سے پاؤنڈ ہوتا ہے

اُن کے وکیل سکاٹ جانسن کا کہنا ہے کہ اُن کے موکل کو تیسرے آپریشن کی ضرورت ہے۔

دستاویزات میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملازمین کی کاہلی کے باعث پارک میں آنے والے عوام کے لیے ’چھپا ہوا خطرہ یا سخت خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔‘ اور پارک کے شمال مشرقی حصے میں میس کو لگنے والی چوٹ کے بعد صرف اُن ہی درختوں کی چاروں جانب حفاظتی باڑ لگائی گئی ہے۔

اِس سدا بہار درخت کے پھل کا سائز 25 سے 35 سینٹی میٹر قطر ہوتا ہے اور اِس کا وزن 30 سے 40 سے پاؤنڈ سے زیادہ یا دو پتھروں سے زیادہ (14-18 کلو) کا ہوتا ہے۔

شان میس نے دعویٰ کیا ہے کہ جِس عملے نے دہائیوں پہلے اِس درخت کو لگایا تھا اُس کو علم تھا کہ اِس کے نیچے کھڑے ہونے والے کو چوٹ لگنے کا کافی زیادہ خطرہ ہے۔

عدالتی مقدمہ گزشتہ مہینے دائر کیا گیا تھا لیکن یہ پہلی بار پیر کو منظر عام پر آیا ہے جب اِس بارے میں خبررساں ادارے سان فرانسسکو کرونِکل میں خبر شائع ہوئی۔

اخبار کا کہنا ہے کہ میس جو تقریباً پچاس سال کے ہیں، اُنھوں نے گزشتہ سال بلیو انجیلس فضائی شو دیکھنے کے لیے واٹر فرنٹ پارک میں پر سکون جگہ کا انتخاب کیا۔ قومی پارک سروس کا کہنا ہے کہ مقدمہ عدالت میں ہے اِس لیے وہ اِس بارے میں کوئی بات نہیں کریں گے۔

اسی بارے میں