’ہوم لینڈ نسل پرستانہ ہے‘، گرافیٹی کی مدد سے ڈرامے پر اعتراض

تصویر کے کاپی رائٹ Homeland
Image caption اس پیغام میں ’ہوم لینڈ متعصب ہے‘ لکھا ہوا ہے

امریکہ کے مقبول ٹی وی شو ’ہوم لینڈ‘ کی ایک قسط کے دوران دکھائی جانے والی عربی زبان کی گرافیٹی میں اس پروگرام کے خلاف ہی پیغامات لکھے گئے۔

یہ سیٹ اتوار کو نشر ہونے والی قسط میں دکھایا گیا تھا اور یہ پیغامات لبنان میں شامی پناہ گزینوں کے ایک کیمپ کی منظر کشی کرنے والے سیٹ کی دیواروں پر تحریر تھے۔

ایمی ایوارڈز: بہترین ڈرامے کا اعزاز ’گیم آف تھرونز‘ کے نام

یہ پیغامات تحریر کرنے والے فنکاروں کا کہنا ہے کہ انھوں نے سیٹ پر شو کے خلاف عربی زبان میں پیغامات لکھے کیونکہ ان کے مطابق یہ ڈرامہ عربوں اور مسلمانوں کے بارے میں متعصبانہ تصورات کی عکاسی کرتا ہے۔

فنکاروں نے اپنی گرافیٹی میں جو پیغامات لکھے وہ کچھ یوں تھے: ’ہوم لینڈ نسل پرست ہے‘ اور ’ہوم لینڈ بکواس ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ جون میں انھیں پناہ گزینوں کے ایک کیمپ کے سیٹ پر گرافیٹی لکھنے کو کہا گیا تاکہ وہ ’اصلی لگے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Homeland
Image caption ایک آرٹسٹ نے لکھا ’ہوم لینڈ سیریز نہیں ہے‘

آرٹسٹوں نے ایک بیان میں کہا کہ ابتدا میں وہ شو کے لیے پیغامات نہیں لکھنا چاہتے تھے لیکن پھر انھوں نے ’غور کیا کہ ہم ایک پل کی مداخلت سے شو میں اپنے اور کئی لوگوں کے سیاسی عدم اطمینان کو ظاہر کر سکتے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں ’ہمیں شو میں ہی اپنا موقف دکھانے کا موقع مل گیا۔‘

آرٹسٹ کہتے ہیں کہ شو میں کام کرنے والوں میں کسی نے ان کی گرافیٹی کے مواد کی تصدیق کرنے کی زحمت نہیں کی اور یہ کہ سیٹ کے ڈیزائنرز کے پاس پر ان پر توجہ دینے کے لیے وقت نہیں تھا۔

کچھ پاکستانی شائقین اسی شو میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی عکاسی پر بھی برہم ہوئے تھے۔

اس کے علاوہ وہ اس بات پر بھی ناراض ہوئے تھے کہ شو میں ایک دہشت گرد کردار کا نام امریکہ میں پاکستان کے سفیر کے نام سے بہت ملتا جلتا تھا۔

اسی بارے میں