عراقی افواج رمادی پر آخری حملے کے لیے تیار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption رواں ماہ تک رمادی پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کی کارروائیاں انتہائی سست روی کا شکار تھیں

عراق کی سرکاری فورسز کا کہنا ہے کہ انھوں نے خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم کے زیر قبضہ شہر رمادی میں اہم پیش قدمی کی ہے اور اب وہ آخری حملے کی تیاری کر رہی ہے۔

انبار صوبے میں مشترکہ آپریشن کمانڈ کا کہنا ہے کہ فوجی اور ملیشیا رمادی کے شمالی علاقے البو فراج تک پہنچ چکے ہیں۔

امریکہ نے دولت اسلامیہ کے خلاف اسلحہ پہنچا دیا

’عراقی فوج میں دولت اسلامیہ سے جنگ میں عزم کی کمی‘

خیال کیا جا رہا ہے کہ شہر میں دولت اسلامیہ کے تقریباً چھ سو سے ایک ہزار تک جنگجو موجود ہیں اور وہ کافی بہتر انداز میں مورچہ بند ہیں۔

منگل کو امریکہ کا کہنا تھا کہ اس کے خیال میں اب رمادی پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کا وقت آگیا ہے۔

واضح رہے کہ عراقی دارالحکومت سے 90 کلومیٹر دور واقع رمادی شہر پر دولت اسلامیہ نے گذشتہ مئی میں قبضہ کر لیا تھا۔ عراقی فوج کی اس شرمناک شکست کی وجہ سے پونے تین لاکھ سے زائد افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی تھی۔

بدھ کو انبار کی مشترکہ آپریشن کمانڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’دولت اسلامیہ کے خلاف فتح کی گھڑی آگئی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عراقی فورسز نے رمادی کے تباہ شدہ سٹیڈیم پر دوبارہ قبضہ حاصل کر لیا ہے

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’آپ کی بہادر افواج ثابت قدمی سے آگے بڑھ رہی ہیں اور وہ البو فراج کے علاقے تک پہنچ گئی ہیں۔‘

کمانڈ کے سربراہ میجر جنرل اسماعیل محالوی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’فرات کے قریب البو فراج پل پر عراقی پرچم لہرا دیا گیا ہے۔‘

پینٹاگون کے ترجمان کرنل سٹیو ویرن نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’عراقی فورسز نے گذشتہ دو ہفتوں کے دوران رمادی کی طرف 15 کلومیٹر تک پیش قدمی کی ہے اور اچھی بات ہی ہے کہ وہ چاروں اطراف سے شہر میں داخل ہو رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا: ’یہ ایک شدید لڑائی ہے اور ہمارے خیال میں صورت حال بہت بہتر ہے۔‘

اسی بارے میں