پناہ گزینوں کے بحران پر یورپی یونین اور ترکی کے مذاکرات

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ترکی اب تک 20 لاکھ افراد کو اپنے ہاں پناہ دے چکا ہے

یورپ میں پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے یورپی رہنما ترکی کے ساتھ مذاکرات کے لیے بلیجیئم کے دارالحکومت برلسز میں جمع ہو گئے ہیں۔

ان مذاکرات میں پناہ گزینوں کے مسئلے میں ترکی کے کردار پر خاص طور پر بات چیت کی جائے گی۔

اس سال اب تک سمندر کے راستے تقریباً چھ لاکھ مہاجرین یورپی یونین کے مختلف ممالک میں پناہ کی غرض سے پہنچ چکے ہیں۔

ترکی اب تک 20 لاکھ افراد کو اپنے ہاں پناہ دے چکا ہے جن کی اکثریت شام میں جاری جنگ سے فرار ہونے والوں کی ہے۔

برسلز مذاکرات سے پہلے جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے مہاجرین کے سلسلے میں یورپی یونین کی جانب سے مشترکہ کوششوں پر زور دیا اور کہا کہ اس معاملے میں ’ترکی نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔‘

تارکینِ وطن کی دوبارہ آبادکاری سلسلہ شروع

جرمنی کو اس سال ’15 لاکھ پناہ گزینوں کا سامنا

جمعرات کی صبح جرمن پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے انگیلا میرکل کا کہنا تھا کہ ’یورپ آنے والے تارکین کی ایک بڑی تعداد ترکی کے راستے یورپ پہنچتی ہے۔ ہم ترکی کے ساتھ کام کیے بغیر پناہ گزینوں کی نقل و حرکت میں باقاعدگی نہیں لا سکتے اور نہ ہی اس مسئلے کو ختم کر سکتے ہیں۔‘

یورپی امور پر نظر رکھنے والے بی بی سی کے نامہ نگار کرِس مورس کا کہنا ہے کہ یورپی رہنماؤں کی اکثریت کو یقین ہے کہ ترک حکومت کے ساتھ تعاون کیے بغیر ماجرین کے مسئلے پر قابو پانے کی کوششوں میں کامیابی نہیں ہو سکتی۔

تاہم نامہ نگار کا مزید کہنا ہے کہ اس تعاون کے جواب میں ترکی یورپ سے بہت سی امداد کا خواہاں ہے جس میں ترکی میں تارکین وطن کی میزبانی کے لیے درکار مالی مدد میں اضافہ اور یورپی ممالک میں پناہ کی ان درخواستوں پر عمل درآمد ہے جو مہاجرین نے ترکی میں دائر کر رکھی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جرمن چانسلر انگیلا مرکل بھی ترک حکومت سے مزید بات چیت کے لیے سنیچر یا اتوار کو ترکی جائیں گی۔

شام میں گذشتہ چار برس سے جاری تنازعے کے نتیجے میں اب تک 22 لاکھ مہاجرین ترکی میں داخل ہو چکے ہیں۔

برسلز میں جمع ہونے والے یورپی رہنماؤں کو امید ہے کہ ترک حکومت ان کے ساتھ ایک مشترکہ منصوبے پر دستخط کر دے گی جس کے تحت:

  • مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے لیے ترکی کو زیادہ سے زیادہ مالی اور انتظامی امداد کی جائے گی۔
  • ترکی دیگر یورپی ممالک کو اجازت دے گا کہ وہ ترکی کے ساحلی پٹی کی نگرانی کر سکیں۔
  • انسانی سمگلنگ پر قابو پایا جائے گا۔
  • اور مہاجرین کی واپسی کے نظام کو تقویت دی جائے گی۔

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ان مذاکرات میں ترکی اس بات پر زور دے گا کہ یورپ کے ان ممالک کے لیے ترک شہریوں کو ویزا کی سہولت میں آسانی پیدا کی جائے گی جن کے ہاں سرحدی پابندیاں ختم ہو چکی ہیں اور ان ممالک کے شہری آزادانہ ایک دوسرے کے ہاں آ جا سکتے ہیں۔

یورپی کمیشن کے نائب صدر فرانز ٹمرمانز ترک حکومت سے بات چیت کے لیے ترکی پہنچ چکے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ ’یورپی یونین کو ترکی کی ضرورت ہے اور ترکی کو یورپی یونین کی ضرورت ہے۔‘

توقع ہے کہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل بھی ترک حکومت سے مزید بات چیت کے لیے سنیچر یا اتوار کو ترکی جائیں گی۔