پاکستان کا محتاط رد عمل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کے دفترِ خارجہ نے افغان میں قیام امن کے لیے مذاکرات جاری رکھنے کی بات کی ہے

پاکستان نے امریکہ کی جانب سے افغانستان میں 2016 کے بعد بھی اپنی فوجیں رکھنے کے فیصلے پر محتاط ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے کہا کہ ’امریکہ کے اس فیصلے پر رائے دینا افغان حکومت پر منحصر ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام میں دلچسپی رکھتا ہے اور ہم افغانوں کے درمیان بات چیت کی حمایت کرتے ہیں۔

’اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امریکہ افغانستان میں امن کی کوششوں میں مدد کرتا رہا ہے اور وہ بھی افغانوں کے درمیان مذاکرات کی حمایت کرتا ہے مگر افغانستان میں 2016 کے بعد بھی اپنی فوج رکھنے کے فیصلے پر تبصرہ کرنا افغان حکومت کا کام ہے۔‘

امریکی حکام نے جمعرات کو ہی اعلان کیا ہے کہ امریکہ افغانستان میں اپنی فوجی موجودگی میں توسیع کرے گا۔

اس منصوبے کا اعلان صدر اوباما بعد میں کریں گے جس میں امکان ہے کہ 2017 میں عہدہ صدارت چھوڑنے کے بعد بھی وہ افغانستان میں ساڑھے پانچ ہزار امریکی فوج تعینات رکھنے اعلان کریں گے۔

اس سے پہلے امریکہ نے اگلے سال کے اختتام کے بعد کابل میں صرف اپنے سفارتخانے کی حفاظت کے لیے چھوٹا فوجی دستہ تعینات رکھنے کا فیصلہ کررکھا تھا مگر اب امریکی فوج کہتی ہے کہ طالبان کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے افغان سیکیورٹی فورسز کی مدد کی خاطر مزید فوج کی ضرورت پڑے گی۔

اسی بارے میں