یہودیوں کا مقدس مقام نذرِ آتش، غربِ اردن میں کشیدگی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

فلسطینی مظاہرین کی جانب سے مقبوضہ غربِ اردن میں یہودیوں کے ایک مقدس مقام کو نذرِ آتش کیے جانے کے بعد علاقے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے یہودیوں کے مقدس مقام کو نذر آتش کیے جانے کے واقعے کی مذمت کی ہے۔

نتن یاہو کا یروشلم میں تشدد کم کرنے کیلیے مذاکرات پر زور

انھوں نے کہا کہ مقبرے کو جلایا جانا ایک غیر ذمہ دارانہ حرکت ہے اور فلسطینی اتھارٹی اس مقبرے کی تعمیرِ نو کرے گی۔

فلسطینیوں نے جمعے کو اسرائیل کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہروں کی اپیل کی ہے جس کے بعد یروشلم میں بڑی تعداد میں اسرائیلی فوجیوں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی حکام نے 40 سال سے کم عمر فلسطینیوں کے نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجدِ اقصیٰ میں داخلے پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔

اسرائیلی پولیس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ جس کسی نے قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کی اس سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تشدد کے واقعات میں اب تک سات اسرائیلی ہلاک اور کم سے کم 30 فلسطینی بھی مارے گئے ہیں

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان حالیہ دنوں میں ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور حالیہ ہفتوں میں پرتشدد واقعات میں 34 فلسطینی اور سات اسرائیلی مارے جا چکے ہیں۔

ادھر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں یہودیوں اور فلسطینیوں کے مابین تشدد میں اضافے کے بعد خطے کی صورتحال پر جمعے کو ہنگامی اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔

سلامتی کونسل کا اجلاس اردن کی درخواست پر طلب کیا گیا اور اس سے قبل اقوامِ متحدہ میں عرب ممالک کے مندوبین نے ایک اجلاس میں تشدد میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یہودی عبادت گاہ نذرِ آتش

پیغمبر یوسف کے مزار کو آگ لگائے جانے کا واقعہ جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب نابلوس کے قصبے میں پیش آیا۔

درجنوں مظاہرین نے حضرت یوسف سے منسوب اس مقام پر پیٹرول بم پھینکے جس سے اس میں آگ لگ گئی۔

فلسطینی فائربریگیڈ کے عملے کئی گھنٹے کی کوشش کے بعد آگ تو بجھا دی لیکن اس وقت تک عبادت گاہ کی عمارت کو شدید نقصان پہنچ چکا تھا۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان کرنل پیٹر لرنر نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ یہ کارروائی عبادت کے بنیادی حق کے خلاف کیا جانے والا دانستہ حملہ ہے۔

ان کا کہنا تھا ’اسرائیلی سکیورٹی فورسز ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گی اور اس مقام کو بحال کیا جائے گا۔‘

اس عبادت گاہ کو اس سے پہلے بھی نشانہ بنایا گیا تھا، گذشتہ برس یہاں آتشزدگی ہوئی جبکہ سنہ 2000 میں بھی اسے تباہ کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں