یروشلم: خوف اور نفرت سے بھرا شہر

یروشلم میں اسرائیلی سکیورٹی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یروشلم میں اسرائیلی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے لیکن تشدد میں کوئی کمی نہیں ہوئی

یروشلم فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان تنازع کا مرکز ہے۔ دونوں فریق اِس کو اپنا دارالحکومت تصور کرتے ہیں۔ دونوں مذہبی مقامات کا احترام کرتے ہیں جو کہ قومی علامات بھی ہیں۔

اگرچہ اکثر یہ لگتا ہے کہ تل ایب کے ساحلوں اور شراب خانوں میں ان کے درمیان جھگڑے کو بھلایا جا سکتا ہے لیکن اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی نفرت یروشلم میں ہمیشہ ہی اسی شدت سے رہتی ہے۔

کچھ لوگ اِس کو امن کا شہر کہنا پسند کرتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ مقدس شہر سب سے کم پر امن تصور کی جانے والی جگہوں میں سے ایک ہے۔

بدھ کی شب یروشلم کے مرکزی بس سٹیشن پر پیش آنے والے واقعے سے شہر کے رویے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جب ایک فلسطینی شہری نے اسرائیلی خاتون پر چاقو سے حملہ کر دیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اُس شخص کو بس میں سوار ہونے سے روک لیا گیا تھا۔ جب ڈرائیور نے بس کے دروازے بند کیے تو جائے وقوع پر پہنچنے والے خصوصی گشتی یونٹ کے اہلکاروں نے اُس کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

وہاں موجود لوگوں میں غصے، خوف اور نافرمانی کے جذبات نظر آ رہے تھے۔

کچھ مذہبی لوگوں کے پاس ہتھیار بھی تھے اور وہ یہودی گانے گا رہے تھے اور ان پر رقص بھی کر رہے تھے۔ میں نے طبی عملہ کو درجن بھر خواتین کا علاج کرتے ہوئے دیکھا۔

سرحدی پولیس سے تعلق رکھنے والے دوسرے ایلیٹ یونٹ کے بھاری ہتھیاروں سے لیس نقاب پوش ایک عمارت کے اندر داخل ہو رہے تھے۔

میں نے ایک 12 سال کے اسرائیلی لڑکے کی گفتگو سنی جو پریشانی لیکن بہادری سے اپنی والدہ سے فون پر بات کر رہا تھا۔ لڑکے نے والدہ کو بتایا کہ وہ لوٹو کیوسک پر اُن کا انتظار کرے گا۔

شہر کی توسیع

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دو ہفتوں سے جاری تشدد کے بعد اسرائیلی حکومت نے شہریوں کے سخت دباؤ میں آ کر یروشلم میں سکیورٹی میں اضافہ کر دیا ہے

دو سال یا اس سے کچھ زیادہ عرصے کے دوران یروشلم خطرناک طریقے سے بھر گیا ہے۔ وزیر اعظم نتن یاہو کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ شہر میں جہاں بھی ضرورت ہو، یہودیوں کے لیے گھروں کی تعمیر ان کا قومی حق ہے۔

حکومت کی جانب سے آبادکاری میں توسیع کی حمایت سنہ 1967 کی جنگ میں یروشلم کے کچھ حصوں پر قبضے کے بعد کی گئی تھی۔ باقی دنیا اس کی درجہ بندی مقبوضہ علاقے کے طور پر کرتی ہے۔

فلسطینیوں کو لگتا ہے کہ ان کو ان کے گھروں سے نکالا جا رہا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ زمین کے لیے اسرائیل کی بھوک ان کی زمینوں کو کھا رہی ہے اور انھیں لگتا ہے کہ قومی نظریہ اسرائیل اور یہودیت کے غلبے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔

دو ہفتوں سے جاری تشدد کے بعد اسرائیلی حکومت نے شہریوں کے سخت دباؤ میں آ کر یروشلم میں سکیورٹی میں اضافہ کر دیا ہے۔ ایک سینیئر اہلکار نے مجھے بتایا کہ یہاں حفاظت کا کوئی مناسب حل نہیں ہے۔

یہ عارضی ہے کیونکہ تنظیموں کے مقابلے میں پرعزم تنہا افراد کو روکنا انتہائی مشکل ہے اور اسے اسرائیل کی مؤثر انٹیلی جنس سروس کے ذریعے ہی روکا جا سکتا ہے۔

لیکن یہ اس لیے بھی ہے گذشتہ 50 برسوں سے اسرائیل مغربی یروشلم کو شہر کے مقبوضہ مشرقی علاقے سے ملانے کی کوشش کر رہا ہے۔ عوامی ٹرانسپورٹ اور سڑکوں کے نظام کو آپس میں جوڑ دیا گیا ہے۔

یہودی اُن علاقوں کے ساتھ بھی آباد ہیں جہاں مکمل آبادی فلسطینیوں کی ہے۔

عام نوجوان

تو کیا فلسطینی اس لیے اس طرح کے جرائم کر رہے ہیں اور عام لوگوں پر بے ترتیب حملے کر رہے کیونکہ وہ اسرائیلی یہودی ہیں؟ کچھ حملہ آور پڑھے لکھے نوجوان ہیں جن کا کوئی سکیورٹی پس منظر نہیں ہے۔

جب میں 15 سالہ حسن ماہانیہ جس نے مشرقی یروشلم میں نوجوان اسرائیلی کو حملہ کر کے بری طرح زخمی کر دیا تھا کے والد خالد ماہانیہ سے ملا تو ان کی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ کچھ کہیں۔

حسن کو حملے کے وقت گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ ان کے 13 سالہ رشتہ دار اور ساتھی گاڑی میں فرار ہوتے ہوئے بری طرح زخمی ہوگئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یروشلم میں قتل و غارت کا بازار ایک مرتبہ پھر گرم ہو گیا ہے

اسرائیلی حکومت نے الزام لگایا ہے کہ حملے سیاسی اور مذہبی شدت پسندوں کی جانب سے اُکسانے پر کیے گئے ہیں۔ غزہ کے ایک عالم کی ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں اُن کو چاقو لہراتے اور فلسطینیوں سے یہودیوں کے گلے کاٹنے کی اپیل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

خالد نے مجھے بتایا کہ گزشتہ سال ان کے بیٹے کا سمارٹ فون ٹوٹ گیا تھا اور اس کے بعد سے انھوں نے اس کو دوسرا موبائل نہیں دلایا۔ نا تو ان کے بیٹے کی انٹرنیٹ تک رسائی تھی اور نا ہی انٹرنیٹ ان گھر پر تھا۔

خالد نے اپنا ٹی وی تک توڑ ڈالا تھا کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ بچوں کو پڑھنا اور آپس میں گفتگو کرنا چاہیے۔

خالد اس وقت بالکل ٹوٹ گئے جب انھوں نے کہا کہ میرا بیٹا ایک عام سا نوجوان تھا، ’نہ ہی سیاسی اور نہ ہی یقینی طور پر بنیاد پرست۔‘

کئی فلسطینیوں کے مطابق حملوں کی وجہ یہ ہے کہ دوسری نسل سمجھتی ہے کہ فلسطینی علاقے، جن میں مشرقی یروشلم بھی شامل ہے، پر قبضے کے ہونے والی نا انصافیاں توہین آمیز سلوک ان کے مستقبل کے امکانات کو تباہ کر دے گا۔

اسرائیل یروشلم میں مسجد اقصیٰ تک یہودیوں کو زیادہ رسائی دینے کے منصوبے بنا رہا ہے، جس کو فلسطینی عظیم عبادت گاہ اور اسرائیلی حرم الشریف کہتے ہیں۔

شیطانی چکر

اسرائیل کی جانب سے اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے زیادہ طاقت کا استعمال پر بہت غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے بھی اس کی مذمت کی ہے۔

اسرائیلی حکومت نے تردید کی ہے کہ اِس کا مسجد اقصیٰ کے اطراف میں پرانے نظام کی تبدیلی کا منصوبہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ بے بنیاد افواہوں کی وجہ سے لوگوں کو مشتعل کیا جا رہا ہے۔

لیکن فلسطینیوں کی بڑی تعداد کا ماننا ہے کہ اِن کی عظیم عبادت گاہ کو خطرہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فلسطینی سمجھتے ہیں کہ دہائیوں سے ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے

تشدد غیر متوقع طور پر سامنے نہیں آتا اِس کا کوئی نہ کوئی پس منظر ہوتا ہے۔ ایک بار پھر یہودیوں اور فلسطینیوں کے درمیان حل طلب تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔یہ فساد کی جڑ ہے، جس سے سارا شہر متاثر ہوتا ہے۔

تنازع کی سب سے بڑی وجہ فلسطینی سر زمین پر فوجی قبضہ ہے جس میں مشرقی یروشلم بھی شامل ہے، جو کہ تقریباً 50 سال سے جاری ہے۔ اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ قبضے کے اثرات ہمیشہ سے تشدد آمیز اور وحشیانہ ہو سکتے ہیں۔

فلسطینی نسلوں میں اس نے ناامیدی اور نفرت پیدا کر دی ہے۔ کچھ واقعات یہ قاتل غصے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ اِس ہفتے یروشلم میں دونوں جانب سے کشیدگی اور نفرت کا اظہار کیا گیا۔

یروشلم کی جدید تاریخ عربوں اور یہودیوں کے درمیان نسلی خون ریزی سے داغ دار ہے۔ ہلاکتیں تباہی کی جانب لے جاتی ہیں، انتقامی کارروائیاں اور جوابی کارروائیاں اور پھر زیادہ ہلاکتیں۔ کوئی رہنما یا سفارتکار خونی چکر کو ختم کر کے امن قائم کرنے کے قابل نہیں ہے۔

لیکن دردناک اور پریشان کن بات یہ ہے کہ کوئی بھی اس وقت اس کی کوشش نہیں کر رہا۔

اسی بارے میں