امریکہ کی جاسوسی کرنے والا ہیکر ملائیشیا سے گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یریزی گذشتہ سال اگست میں ملائیشیا کے شہر کوالالمپور میں کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے آئے تھے

ملائیشیا میں حکام نے کمپیوٹر ڈیٹا بیس ہیک کرنے اور امریکی سکیورٹی حکام کی معلومات خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی تنظیم کو فراہم کرنے کے الزام میں کوسووا کے ایک شہری کو گرفتار کر لیا ہے۔

جمعرات کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار شدہ شخص کی عمر 20 سال ہے اور اِسے 15 ستمبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔

امریکی حکام نے ان کی شناخت اردِت فیریزی کے نام سے ظاہر کی ہے، جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ کوسووا ہیکرز سکیورٹی (کے ایچ ایس) گروپ کے سربراہ ہیں۔

فیریزی کو امریکہ کے حوالے کر دیا جائے گا۔

امریکی محکمہ انصاف کے جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فیریزائی کو اُن کی عرفیت ’Th3Dir3ctorY‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، اُنھوں نے امریکی کمپنیوں کے سسٹم کو ہیک کیا تاکہ وہ امریکی فوج اور حکومت کے 1,351 اہلکاروں کی ذاتی معلومات حاصل کر سکیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اُن پر کمپیوٹر ہیکنگ اور شناخت کی چوری کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا جس میں اُن کو 35 سال تک کی جیل ہو سکتی ہے۔

ملائیشیا کی پولیس کا کہنا ہے کہ فیریزی گذشتہ سال اگست میں ملائیشیا کے شہر کوالالمپور میں کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے آئے تھے۔

فیریزی پر الزام ہے کہ اُنھوں نے رواں سال جون اور اگست کے درمیان یہ معلومات دولت اسلامیہ کے رکن جنید حسین المعروف ابوحسین البرطانوی کو فراہم کی۔ جنھوں نے بعد میں یہ معلومات حکام کو دھمکی کے ساتھ آن لائن شائع کی تھیں۔

ملائیشین پولیس کا کہنا ہے کہ ’ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مشتبہ شخص امریکہ کے سکیورٹی حکام اور ٹیم کی معلومات والے سرورز کو ہیک کرنے کے لیے دولت اسلامیہ کے شام میں موجود ایک اہم رکن سے رابطے میں تھا۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’یہ معلومات بعد میں دولت اسلامیہ کے کارروائی کرنے والے یونٹ کو فراہم کر دی گئی تھیں تاکہ اُن پر مزید کارروائی کی جا سکے۔‘

اِس سال ملائیشیئن حکام نے دولت اسلامیہ سے تعلق کے شبے میں 100 سے زائد افراد کو حراست میں لیا ہے، جس میں اگست میں گرفتار کیے گئے ملائیشیئن سکیورٹی فورسز کے چھ اہلکاروں سمیت دس افراد بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں