’سابق سوویت ممالک کے ہزاروں افراد دولت اسلامیہ کے ساتھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ولادی میر پوتن کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ کے ساتھ مل کر لڑنے والے روسی جنگجوؤں کے ملک واپس آنے سے ملک کو شدید خطرہ ہو سکتا ہے

روس کے صدر ولادی میر پوتن کا کہنا ہے کہ شام میں روس اور دیگر سابقہ سوویت ریاستوں کے پانچ ہزار سے سات ہزار افراد خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم کے لیے لڑ رہے ہیں۔

علاقائی فورم سے بات کرتے ہوئے روسی صدر کا کہنا تھا کہ اگر دولت اسلامیہ کہ جنگجو واپس آئے تو وہ ملک کے لیے بہت بڑا خطرہ ہو سکتے ہیں۔

’بمباری کا مقصد بشار الاسد کی حکومت کو مستحکم کرنا ہے‘

’دولت اسلامیہ کے خلاف علاقائی رابطہ کاری نظام کی ضرورت ہے‘

’امریکی فوج 2016 کے بعد بھی افغانستان میں رہے گی‘

ولادی میر پوتن نے تنبیہ کی کہ افغانستان میں جاری فسادات وسط ایشیا میں بھی پھیل سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’افغانستان میں صورتحال نازک ہوتی جا رہی ہے اور وسط ایشیا کے ممالک کو کسی بھی قسم کے رد عمل کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘

قزاقستان میں کامن ویلتھ آف انڈیپینڈنس سٹیٹس یعنی ’سی آئی ایس‘ کے اجلاس میں بات کرتے ہوئے روسی صدر کا کہنا تھا کہ ’مختلف تنظیموں کے شدت پسند مزید بااثر ہوتے جا رہے ہیں اور وہ اپنی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کو چھپا بھی نہیں رہے ہیں۔‘

سابقہ سوویت یونین ممالک کے اجلاس کے دوران موجودہ تنازع کے پیش نظر تمام رہنما اپنے اتحاد تو بچانے کے لیے مشترکہ ٹاسک فورس بنانے کے لیے متفق ہو گئے ہیں۔

بی بی سی کے ماسکو میں نامہ نگار سٹیو روسنبرگ کا کہنا ہے کہ سابقہ سوویت ممالک میں سے تاجکستان ہی وہ واحد ملک ہے جس کی افغانستان کے ساتھ طویل سرحدیں ہیں اور اسی لیے اسے خیال کیا جا رہا ہے کہ اسے سب سے زیادہ خطرہ ہو سکتا ہے۔

تاجکستان میں روس کے فوجی اڈے موجود ہیں اور اس معاہدے کی وجہ سے روسی اور دیگر افواج کی افغانستان سے ملحقہ تاجکستان کی سرحد پر تعیناتی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر باراک اوباما نے بھی جمعرات کو 2016 کے بعد بھی افغانستان میں امریکی فوجیوں تعینات رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

براک اوباما کا کہنا تھا کہ 2017 میں جب وہ اقتدار چھوڑیں گے تو افغانستان میں پانچ ہزار پانچ سو امریکی فوجی مقامی فوج کو طالبان سے نمٹنے کے لیے مدد فراہم کرنے کے لیے موجود رہیں گے۔

اسی بارے میں