برطانیہ میں نوجوان ڈاکٹر سراپا احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وزیرِ صحت جیرمی ہنٹ نے بی ایم اے پر نوجوان ڈاکٹروں کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا ہے

برطانیہ میں نوجوان ڈاکٹر تنخواہوں میں کمی کے خلاف سنیچر کو احتجاجی ریلی نکال رہے ہیں۔

ڈاکٹروں نے حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے نئے کنٹریکٹ کو مسترد کر دیا ہے۔

ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم بی ایم اے کا موقف ہے کہ حکومت کی جانب سے متعارف کرائے جانے والے نئے کنٹریکٹ کے تحت نوجوان ڈاکٹروں کو زیادہ گھنٹے کام کرنا پڑے گا اور ساتھ ہی انھیں ملنے والی تنخواہ میں بھی کمی ہوگی۔

موجودہ کنٹریکٹ کے تحت برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کو شام سات سے لے کر صبح سات اور ہفتے اور اتوار کے روز کام کرنے کے عوض اضافی الاونس دیا جاتا ہے۔

حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے نئے کنٹریکٹ کے تحت اضافی الاؤنس رات دس سے لے صبح سات اور صرف اتوار کو کام کرنے کی صورت میں ہی دیا جائے گا۔

دوسری جانب برطانیہ کے وزیرِ صحت جیرمی ہنٹ نے بی ایم اے پر نوجوان ڈاکٹروں کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔

جیرمی ہنٹ کا کہنا ہے کہ نیا کنٹریکٹ میں ڈاکٹروں کا فائدہ ہے کیونکہ اس کے تحت انھیں کم گھنٹے کام کرنا پڑے گا۔

بی ایم اے نے وزیرِ صحت کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امید ہے کہ احتجاج سے حکومت کی آنکھیں کھل جائیں گی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اگر ڈاکٹر نہ بھی مانے تو اگلے برس نیا کنٹریکٹ نافذ کر دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ نیا کنٹریکٹ صرف انگلینڈ میں متعارف کرایا جا رہا ہے۔

سکاٹ لینڈ اور ویلز میں پرانا کنٹریکٹ ہی نافذ العمل رہے گا جبکہ شمالی آئرلینڈ میں اس کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں