یمن میں سعودی اتحاد کے’فرینڈلی‘حملے میں 20 جنگجو ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں اب تک 2335 شہریوں سمیت 4900 افراد ہلاک ہو چکے ہیں

یمن میں سعودی عرب کی سربراہی میں اتحاد کے فضائی حملے میں غلطی سے حکومت کے حامی 20 جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سنیچر کو اتحادیوں کے فضائی حملے میں کم از کم 20 جنگجو زخمی بھی ہوئے ہیں۔

یمن کی بھولی ہوئی جنگ

’ہم گھبرا گئے اور اللہ اللہ کرنے لگے‘

اے ایف پی نے سکیورٹی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ سنیچر کو صوبہ تعز میں حکومت کی حامی جنگجوؤں نے حوثی باغیوں کے ایک کیمپ پر قبضے کے بعد وہاں پڑاؤ ڈالا ہی تھا کہ ان پر’فرینڈلی‘ فضائی حملہ کر دیا گیا۔

ایک سکیورٹی اہلکار نے امریکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا ہے کہ اتحادیوں کا خیال تھا کہ اس کیمپ میں اب بھی حوثی باغی موجود ہیں۔

اے پی کے مطابق ایک سکیورٹی اہلکار کے مطابق زمین پر موجود کمانڈرز سے متعدد بار شکایت کی گئی ہے کہ ان کی جانب سے سعودی عرب میں موجود فوجی قیادت سے رابطوں میں سست روی برتی جا رہی ہے۔

سنیچر کو ہی سعودی عرب نے صوبہ الجوف میں ایک فضائی حملے میں کم از کم 13 حوثی باغیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سعودی اتحاد کا خیال تھا کہ کیمپ میں اب بھی حوثی باغی موجود ہیں

ایک سکیورٹی اہلکار کے مطابق یہ کارروائی حوثی باغیوں کے مضبوط گڑھ صدا پر قبضے حاصل کرنے کی مہم کا حصہ ہے۔

اس سے پہلے جمعے کو ساحلی شہر عدن میں موٹر سائیکل پر سوار ایک حملہ آور نے متحدہ عرب امارات کے فوجی افسر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

عدن میں گذشتہ چند ہفتوں میں حکومت کے اتحادی چھ فوجیوں اور افسران کو ہدف بنا کر ہلاک کیا جا چکا ہے۔

یمن میں رواں برس کے آغاز پر حوثی باغیوں کے ملک کے ایک بڑے حصے پر قبضے کے بعد مارچ سے سعودی عرب کی کمان میں اتحادیوں کی حوثی باغیوں کے خلاف فضائی کارروائیاں جاری ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں مارچ سے شروع ہونے والی فوجی کارروائیوں میں اب تک 4900 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جن میں عام شہریوں کی تعداد 2335 ہے۔

گذشتہ ماہ ہی یمن کے صدر عبدالربوہ ہادی منصور سعودی عرب سے جلاوطنی ختم کر کے واپس عدن پہنچے تھے۔

اسی بارے میں