مصر میں پارلیمانی انتخابات کے پہلے مرحلے میں ووٹنگ جاری

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مصر میں انتخابات دو مرحلے میں ہو رہے ہیں اور الیکشن کے حتمی انتائج دسمبر سے پہلے آنے کا امکان نہیں ہے

مصر میں نئی پارلیمان کی تشکیل کے لیے طویل عرصے سے تاخیر کا شکار ہونے والے انتخابات کے پہلے مرحلے میں ووٹنگ جاری ہے۔

سنہ 2012 میں عدالت کے حکم کے ذریعے پارلیمان برطرف ہونے کے بعد پہلی مرتبہ انتخابات کا انعقاد ہو رہا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس الیکشن میں حصہ لینے والے زیادہ تر امیدوار ملک کے صدر عبدالفتح السیسی کی حامی ہیں اور اس بات کا امکان ہے کہ انتخابات کے بعد نئی پارلیمان پر ملک کے صدر کا کنٹرول زیادہ ہو گا۔

مصر میں انتخابات کے دوران پولنگ مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے شروع ہوئی ہے اور رات شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔

مصر میں انتخابات دو مرحلے میں ہو رہے ہیں اور الیکشن کے حتمی انتائج دسمبر سے پہلے آنے کا امکان نہیں ہے۔

الیکشن کے پہلے مرحلے میں ایوانِ زیریں کے 596 اراکین کا انتخاب کیا جائے گا۔

مصر میں الیکشن کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور پولیس کے ساتھ ساتھ تقریباً ایک لاکھ 85 ہزار فوجی بھی تعینات ہیں۔

گذشتہ روز ملک کے صدر اور سابق آرمی چیف السیسی نے قوم سے خطاب میں عوام سے کہا تھا کہ وہ ووٹ ڈالیں۔

انھوں نے کہا کہ ’پولنگ سٹیشن کے سامنے لائن میں کھڑے ہوں اور اپنے ووٹ سے روشن مصر کی امید کی بنیاد رکھیں۔‘

صدر السیسی نے سنہ 2013 میں کئی ماہ جاری رہنے والی لڑائی کے بعد اخوان المسلمین کی حکومت کو برطرف کر کے اقتدار سنھبالا تھا۔

اس سے قبل مصر میں ہونے والے انتخابات میں اخوان المسلمین نے پارلیمان کی تقریباً نصف نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی لیکن اب اخوان المسلمین کو کالعدم قرار دیا گیا ہے اور اس کے کئی رہنما جیل میں قید ہیں۔

دارالحکومت قائرہ میں بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ گو کہ نئی پارلیمان کے پاس پہلے سے زیادہ اختیار ہوں گے لیکن یہ امکان نہیں ہے کہ پارلیمان صدر کو چیلنج کرے گی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتخابات میں ٹرن آؤٹ کم رہنے کا امکان ہے کیونکہ کئی مصریوں کے خیال میں جمہوریت نے اپنا اثر کھو دیا ہے۔

اسی بارے میں