مقدونیا: تارکینِ وطن کے لیے سرحدیں بند

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یورپی ملکوں کا یہ فیصلہ یورپ اور ترک حکام کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔

مقدونیا نے تارکینِ وطن کے لیے سرحدیں بند کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد مقدونیا اور یونان کی سرحد پر تیرہ ہزار تارکینِ وطن محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

یاد رہے کہ سلوینیا نے پہلے ہی اپنے ملک سے گزرنے والے تارکینِ وطن پر پابندی عائد کردی ہے۔ جبکہ کروئیشیا اور سربیا نے بھی سرحدیں بند کرنے کا کہا ہے۔

یورپی ملکوں کا یہ فیصلہ یورپی اور ترک حکام کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔

ترکی اور یورپ کے درمیان ایک معاہدے طے پایا ہے جس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ترکی کے راستے یونان داخل ہونے والے کسی بھی تارکینِ وطن کو واپس بھیج دیا جائے گا اور یورپ ہر واپس بھیجے جانے والے شخص کے عیوض ایک تارکین وطن کو یورپ میں پناہ دے گا۔

واضع رہے کہ یورپ میں زیادہ تر تارکینِ وطن ترکی کے راستے داخل ہو رہے ہیں۔

جرمنی براستہ بلقان کیوں؟پناہ گزینوں کا مسئلہ، جرمنی اور ترکی میں تعاون پر اتفاق

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ سربیا اور کروئیشیا کی سرحد پر بنیادی ضروریات کی اشیا بھی موجود نہیں ہیں۔

مغربی بلقان کا راستہ بھی حکومتوں کی سختی کی وجہ سے بند پڑا ہے۔

شام افریقہ اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے کئی لاکھ مہاجرین ترکی سے بلقان کے راستے جرمنی سویڈن اور دوسرے یورپی ممالک پہنچے ہیں۔

کروئیشیا نے اپنے شمالی ہمسائے سلووینیا سے کہا ہے کہ وہ روزانہ پانچ ہزار تارکینِ وطن کو اپنے ملک میں داخل ہونے کی اجازت دے تاہم سلووینیا کے مطابق وہ صرف نصف تعداد کو قبول کر سکتا ہے۔

ہنگری نے پہلے ہی کروئیشیا سے متصل اپنی سرحد بند کر دی ہے۔اس صورت حال کی وجہ سے سربیا سے متصل کروئیشیا کی سرحد پر لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption 5000 تارکینِ وطن نے مشرقی کروئیشیا کی سرحد پر موجود کیمپ میں رات بسر کی

اقوام متحدہ کے مطابق دس ہزار سے زائد افرادکروئیشیا کی سرحد پر سربیا میں داخل ہونے کے لیے موجود ہیں۔

یو این ایچ سی آر کی ترجمان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’خوراک کی قلت ہے، کمبل نہیں ہیں۔ وہاں ہر چیز کی کمی ہے۔‘

ایک عہدےدار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس گزرگاہ پر موجود کیمپوں میں چند ہی دنوں میں جگہ ناکافی ہو جائے گی۔

لوگوں سے بھری ہوئی بسوں کی اتوار کو سربیا میں لائینیں لگنی شروع ہوئیں تو مایوس تارکینِ وطن اور کام کے دباؤ کا شکار پولیس افسران میں غصہ بھی بڑھنے لگا۔ رات بھر بہت سے افراد کو سردی اور بارش کے باوجود انتظار کرنے کو کہا گیا۔

اطلاعات کے مطابق پانچ ہزار تارکینِ وطن نے کروئیشیا کی سرحد پر موجود کیمپ میں سرد رات انتظار کرتے ہوئے گزاری جبکہ کہا جا رہا ہے کہ سرحد پار سربیا میں 50 بسوں میں موجود افراد کروئیشیا کی سرحد عبور کرنے کے منتظر رہے۔

بلقان کے ذریعے ہزاروں تارکینِ وطن آسٹریا، جرمنی اور دیگر یورپی ریاستوں میں جانا چاہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ربڑ کی غیر محفوظ کشتیوں کے ذریعے سمندری سفر اختیار کرنے والے ہزاروں تارکینِ وطن ہلاک ہو چکے ہیں

سکیورٹی کے خدشات کے باعثہنگری نے کروئیشیا اور سربیا سے متصل اپنی سرحد کو بند کر دیا تھا۔

اتوار کو سلووینیا کے وزیر داخلہ نے نئی پابندیوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ شمالی ہمسایہ آسٹریا ایک روز میں صرف 1500 افراد کو داخلے کی اجازت دے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورت میں ان کا ملک لامحدود تعداد میں لوگوں کو اپنے ہاں پناہ نہیں دے سکتا جب اسے معلوم ہے کہ وہ اپنا سفر جاری نہیں رکھ سکیں گے۔

اسی بارے میں