’دولت اسلامیہ کے 40 جنگجوفضائی حملے میں ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قافلے پر اس وقت حملہ ہوا جب یہ دولت اسلامیہ کے گڑھ رقہ سے آ رہا تھا (فائل فوٹو)

برطانیہ میں قائم ایک شامی تنظیم کا کہنا ہے کہ خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والے شدت پسند گروپ کے کم از کم 40 جنگجو ایک فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم ’سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ نام نہاد تنظیم دولت اسلامیہ کا 16 گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلہ حما صوبے کے مشرقی حصے سے گزر رہا تھا جب یہ فضائی حملے کی زد میں آ گیا۔

تنظیم کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے یہ طیارے روسی یا شامی فضائیہ کے ہوں تاہم یہ امریکی قیادت میں قائم اتحاد کی فضائی افواج کےنہیں ہو سکتے۔

رامی عبدالرحمان نے فرانسیسی خبر رساں ادارے ایف پی کو بتایا کے جنگجوؤں کی جلی ہوئی لاشیں حملے کی جگہ پر تھیں۔

شام میں موجود ذرائع سے معلومات اکھٹی کرنے والی اس تنظیم کا مزید کہنا تھا کہ اس قافلے پر اس وقت حملہ ہوا جب یہ دولت اسلامیہ کے گڑھ رقہ سے آ رہا تھا۔

روس نے شام پر فضائی حملے گزشتہ ماہ شروع کیے تھے۔ ان کا کہنا ہے وہ دولت اسلامیہ اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو صدر بشار الاسد کی حکومت کی مخالفت کر رہے ہیں ۔

امریکی قیادت میں قائم اتحاد خود بھی فضائی حملے کر رہا ہے۔ ان کا کہناہے کہ وہ روس کے مشن کے ساتھ تعاون نہیں کریں گے۔

شام میں جنگ کیوں؟

حکومت مخالف مظاہرے جو خانہ جنگی میں تبدیل ہو گئے تھے اور اب چار سال کی خانہ جنگی کے بعد ایک جگہ ٹھہر گے ہیں جہاں اسد حکومت، دولت اسلامیہ، شامی باغیوں کے مختلف گروپ اور کرد جنگجو ملک کے مختلف حصوں پر قابض ہیں۔

انسانی قیمت کیا ہے؟

اس خانہ جنگی میں اب تک ڈھائی لاکھ سے زیادہ شامی مارے گئے ہیں اور دس لاکھ زخمی ہوئے ہیں۔ ایک کروڑ دس لاکھ بےگھر ہونے پر مجبور ہوئے ہیں جن میں 40 لاکھ بیرون ملک فرار ہو گئے ہیں جن کی ایک بہت بڑی تعداد یورپ کے پُرخطر سفر پر روانہ ہو گئی ہے اور یورپ کی طرف جانے والوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔

دنیا کا رد عمل کیا ہے؟

ایران، روس اور لبنان کی حزب اللہ تحریک علوی فرقے کی اسد حکومت کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ ترکی، سعودی عرب اور قطر امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے ساتھ مل کر، معتدل سنی اکثریتی اپوزیشن کی حمایت کر رہے ہیں۔

اسد حکومت کے حامی حزب اللہ اور ایران کی فورسز شام میں موجود ہیں جبکہ مغربی اتحادی اور روس فضائی حملے کر رہے ہیں۔