یمنی بچہ جنگ میں انسانی قیمت کی چلتی پھرتی علامت

Image caption چھ سالہ فرید شاکی ان کے گھر پر میزائل گرنے کے بعد شدید زخمی ہو گئے تھے

یمن میں داغے جانے والے میزائل کے ٹکڑوں سے زخمی ہونے والے ایک بچے کی ویڈیو، فیس بک پر 50 ہزار مرتبہ دیکھی جا چکی ہے۔

اس ویڈیو میں اسے ہسپتال میں دکھایا گیا ہے جہاں اس کے زخموں کا علاج کیا جا رہا ہے۔

یہ بچہ اپنے ملک میں جاری جنگ میں انسانی قیمت کی چلتی پھرتی علامت بن گیا ہے۔

یمن میں شادی کی تقریب پر بمباری سے 13 ہلاک

’ہم گھبرا گئے اور اللہ اللہ کرنے لگے‘

اس تکلیف دہ ویڈیو میں چھ سالہ فرید چہرے پر بہتے آنسوؤں کے ساتھ اپنی مدھم آواز میں ڈاکٹروں سے التجا کر رہا ہے کہ ’مجھے دفن نہ کرو۔‘

حوثی باغیوں کے میزائل حملے میں زخمی ہونے والے فرید کے سر اور جسم کے دیگر حصوں پر شدید زخم آئے تھے جبکہ ان کے جسم کے اندر بھی خون رس رہا تھا۔ یاد رہے کہ یمن کے چند علاقوں پر سعودی اتحادی بھی فضائی حملے کر رہے ہیں۔

ویڈیو بنانے کے چند روز بعد فرید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے تھے۔ ان کی ہلاکت کے بعد سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر فرید کی دردناک التجا ایک ٹرینڈ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں یمنی انٹرنیٹ پر فرید کے الفاظ اس تنازعے کے خاتمے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

ایک یمنی سرگرم کارکن فیس بک پر لکھتے ہیں: ’جس طرح ایلان کی ہلاکت نے شام کے افراد کی المناک صورت حال کو تلخیصی شکل میں دنیا کے سامنے پیش کر دیا تھا، اسی طرح فرید کی دفن نہ ہونے کی التجا نے یمن کے لوگوں کے دکھ اور تکالیف کا خلاصہ بیان کر دیا ہے۔‘

ایک اور یمنی نے لکھا کہ ’میرے اس بچے کے نام جو کبھی پیدا نہیں ہوا: میرے پیارے بچے، تمہیں پیدا نہ کرنے کے لیے تم میرا شکریہ ادا کرو گے۔ یقین کرو یہ جگہ تمہارے لیے اچھی نہیں ہے۔ میں تمہاری دادی جتنا مضبوط نہیں ہوں۔ جتنی بھی کہانیاں اب میں جانتا ہوں سب جنگوں، ہلاکتوں، پاگل لوگوں، اور کھو جانے والے گھر کے بارے میں ہیں۔‘

یمن میں جاری جنگ میں اب تک تقریباً ڈھائی ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں پانچ سو بچے بھی شامل ہیں۔ یمن کے شہر تعز میں جہاں فرید کی رہائش تھی، حوثی باغیوں اورسعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے فراہم کردہ اسلحے سے لیس مقامی افراد کے درمیان شدید لڑائیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔

فرید کی کہانی

Image caption ویڈیو بنانے کے چند روز بعد فرید ہلاک ہوگئے تھے

یمن کے شہر تعز کے رہائشی علاقے میں 13 اکتوبر کو ایک میزائل حملہ ہوا تھا۔ فرید کی ویڈیو بنانے والے یمنی فوٹوگرافر احمد باشا نے بی بی سی ٹرینڈنگ کو بتایا کہ ’میں سڑک پر جا رہا تھا کہ میں نے میزائل لانچ ہونے کی آواز سنی اور میں وہیں رک گیا۔ میں اندازہ لگانے کی کوشش کر رہا تھا کہ میزائل کہاں گرے گا۔‘

جیسے ہی باشا کو دھماکے کی آواز سنائی دی انھوں نے یہ جاننے کے لیے کہ میزائل کہاں گرا ہے، آواز کی سمت دوڑنا شروع کر دیا۔ باشا کہتے ہیں: ’وہ ایک گھر پر گرا تھا۔ گھر کے باہر کھیلنے والے تقریباً پانچ بچوں کو میں نے موٹر سائیکلوں پر ہسپتال لے کر جاتے ہوئے دیکھا۔‘

باشا بھی ان کے پیچھے ہسپتال پہنچے اور وہاں پہنچتے ہی انھیں اندازہ ہوگیا کہ سب سے خطرناک زخم فرید شاکی کو آئے تھے۔ باشا یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’وہ بار بار بے ہوش ہو رہا تھا۔‘

باشا کہتے ہیں کہ ’اس چھوٹے سے بچے کو دیکھ کر میرا دل ٹوٹ گیا تھا اور اس لیے میں نے اپنے فیس بک صفحے پر ان کی ویڈیو پوسٹ کر دی لیکن اس ویڈیو کو زیادہ توجہ نہیں ملی تھی۔ ایسا لگتا ہے جیسے فرید کی کہانی اُن کی ہلاکت کے بعد وائرل ہوئی تھی۔ ’یہ بات باعث شرم ہے کہ لوگ ان کی زندگی میں ان کا خیال نہیں کر سکے… ان کے الفاظ ہمیشہ میرے ساتھ رہیں گے۔‘

ممکن ہے فرید کی ہلاکت کے باعث ان کی کہانی کو نظر انداز کرنا مشکل ہوگیا ہو لیکن وہ اُن کے الفاظ تھے جن کی گونج ہزاروں یمنی افراد کی جانب سے شیئر کی جانے والی ان کی تصویر کے ساتھ سنائی دیتی ہے۔

فیس بک پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ایک یمنی کہتے ہیں کہ ’مجھے دفن نہ کریں‘… چھوٹے سے بچے نے سب کچھ کہہ دیا۔ فرید کی روح پر رحم ہو اور ان تمام بچوں کی روحوں پر بھی جو بغیر کسی وجہ کے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔‘

تعز شہر میں حوثی باغیوں کے خلاف شدید جذبات پائے جاتے ہیں اور آن لائن زیادہ تر پوسٹوں میں یمن میں عسکری باغیوں کو نشانہ بنانے والے سعودی اتحادیوں کے حملوں کی حمایت نظر آتی ہے۔

تاہم اس بچے کی ہلاکت پر کی جانے والی بات چیت میں یہ تقسیم ختم ہوتی ہوئی نظر آتی ہے اور تمام متحارب گروہوں کے اوپر جنگ اور تشدد کو ختم کرنے پر زور نظر آتا ہے۔

باشا کہتے ہیں کہ ’جنگ کو ہر صورت ختم ہونا ہے، اس تنازعے کا یقیناً کوئی حل تو ہو گا۔ یہ بہرحال بچے ہیں اور جنگ کی سیاست سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں