جنگ میں بچھڑے خاندانوں کا دہائیوں بعد ملاپ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

جنوبی کوریا کے سینکڑوں خاندان شمالی کوریا میں خاندانوں کے ملاپ کے ایک غیر معمولی پروگرام کے تحت ان عزیز و اقارب سے ملاقات کر رہے ہیں جو جنگ کے دوران ان سے بچھڑنے گئے تھے۔

خاندانوں کا یہ ملاپ دونوں ممالک کی سرحد پر کمگانگ کے سیاحتی مقام پر جاری رہے گا۔

سنہ 1953 کی جنگ کے بعد سے دونوں جانب مقیم یہ خاندان بہت کم ہی ایک دوسرے سے مل پائے تھے۔

خاندانوں کی باہمی ملاقاتوں کا انعقاد سنہ 1998 کے بعد ہوا اور اس کا انحصار دونوں ممالک کے تعلقات پر ہوتا تھا۔

اس سے قبل گذشتہ سال فروری میں اس قسم کی تقریب منعقد ہوئی تھی۔ اس بار یہ ملاقاتیں رواں برس اگست میں دونوں جانب موجود خاندانوں کو ملانے کے معاہدےکے بعد ہو رہی ہیں۔

80 سالہ لی تائیک گو خود سے 20 سال چھوٹی بہن سے ملیں گے۔ وہ جنگ سے قبل کشتی میں یہ سوچ کر سوار ہوئے تھےکہ جنگ ختم ہوتے ہی لوٹ آئیں گے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ دونوں جانب ڈاک کا سلسلہ بند ہے، وہ اپنے والدین کو خط لکھا کرتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

وہ کہتے ہیں کہ وہ زندہ رہنے پر اپنی بہن کا شکریہ ادا کریں گے اور ان سے اپنے والدین کے بارے میں بات کریں گے جو اب اس دنیا میں موجود نہیں ہیں۔

جنوبی کوریا اور شمالی کوریا میں مقیم ان خاندانوں کے درمیان ملاقاتوں کا اہتمام بین الاقوامی امدادی ادارے ریڈ کراس نے کروایا ہے۔

جنوبی کوریا میں جن افراد نے اپنے رشتے داروں سے ملنے والوں کے خواہش کا اظہار کیا تھا ان کا چناؤ کمپیوٹر پر ان کی جانب سے بھجوائی گئی معلومات کی بنا پر کیا گیا۔ ان میں عمر اور خاندانی پسِ منظر شامل تھا۔

اس کے علاوہ ریڈ کراس کی جانب سے ان کا انٹرویو بھی لیا گیا اور طبّی معائنہ بھی کیا گیا تاکہ یہ جان سکیں کہ کیا وہ سفر کے قابل ہیں۔

یون ہاپ نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا کے باشندوں پر مشتمل پہلا گروہ 400 افراد پر مشتمل ہے جو منگل سے جمعرات تک اپنے اہلِ خانہ سے ملے گا۔

اس کے بعد دوسرا مرحلہ شروع ہو گا جو سنیچر سے پیر تک جاری رہے گا۔

اسی بارے میں