ایشیا کے پناہ گزینوں کے بحران پر ایمنسٹی کی تنبیہہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اکتوبر میں برسات کا موسم ختم ہوتا ہے اور لوگوں کی سمگلنگ کرنے کا عمل دوبارہ شروع ہو جاتا ہے

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق اس سال کے ابتدا میں بحیرۂ انڈیمان میں پناہ کی تلاش میں نکلنے والوں میں سے ایک ہزار سے زائد لوگ اب بھی لاپتہ ہیں۔

تنظیم کے مطابق ان میں سے اکثریت روہنجیا مسلمانوں کی ہے۔

’میانمار روہنجیا پناہ گزینوں کی کشتیوں کا ذمہ دار نہیں‘

روہنجیا تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے بچا لی گئی

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیشی تارکین وطن اور میانمار سے فرار ہونے والے ظلم سے تنگ روہنجیا مسلمانوں نے ان کشتیوں پر ’جہنمی‘ حالات کا سامنا کیا ہے۔

یہ رپورٹ انڈونیشیا پہنچنے والے 100 پناہ گزینوں کے دیے گئے بیانوں پر مبنی ہے۔

یہ رپورٹ ایک ایسے موقعے پر شائع کی گئی ہے جب برسات کا موسم ختم ہونے کے بعد انسانی سمگلنگ میں ملوث سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو جاتی ہیں۔

اقوام متحدہ نے اندازہ لگایا ہے کہ گذشتہ جنوری اور جون کے درمیان 370 لوگ ہلاک ہوئے تھے جب ہزاروں لوگ خطے سے منتقل ہونے کے لیے کشتیوں میں سوار ہوئے تھے۔

لیکن ایمنسٹی نے اس اندازے کی مخالفت یہ کہتے ہوئے کی ہے کہ عینی شاہدین نے درجنوں بڑی کشتیوں میں بھرے ہوئے لوگ دیکھے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سمندر میں در بدر بہنے والے ان لوگوں کے پاس کوئی خوراک، پانی یا طبی امداد موجود نہیں تھیں

تنظیم نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے کہا گیا تھا کہ صرف پانچ کشتیاں انڈونیشیا اور ملائیشیا میں اتری تھیں۔

رپورٹ کے مطابق ’اگر ہزاروں میں نہیں تو سینکڑوں لوگ اب بھی لاپتہ ہیں اور شاید اپنے سفر کے دوران یا تو ہلاک ہو گئے یا پھر انھیں زبردستی کام کرنے کے لیے بیچ دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’تقریباً ہر روہنجیا خاتون، مرد اور بچے نے کہا ہے کہ یا تو خود انھیں پیٹا گیا ہے یا پھر انھوں نے دوسروں پر تشدد ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ ‘

روہنجیا مسلمان ایک طویل عرصے سے میانمار کی ریاست رخائن سے فرار ہو رہے ہیں جہاں پر بدھ مت کے ماننے والوں کی اکثریت انھیں بنگلہ دیشی تارکین وطن قرار دیتی ہے اور حکومت انھیں شہریت بھی نہیں فراہم کرتی۔

گذشتہ مئی میں تھائی لینڈ کے حکام نے ملائیشیا اور انڈونیشیا جانے والے راستوں پر انسانی سمگلروں پر کریک ڈاؤن کیا تھا جس کے بعد سمگلروں نے انسانوں سے بھری ہوئی کشتیاں سمندر میں چھوڑ دی تھیں۔

ہزاروں لوگ خوراک، پانی یا طبی امداد کے بغیر ان کشتیوں پر پھنسے ہوئے تھے۔

پہلے تو کئی ہفتوں تک انڈونیشیا، ملائیشیا اور تھائی لینڈ کے بحری حکام نے ایک دوسرے کے علاقوں میں یہ کشتیاں بھیجیں لیکن آخر میں کچھ تارکین وطن کو اپنی کشتیاں زمین پر اتارنے کی اجازت ملی اور انڈونیشیا اور ملائیشیا میں پناہ گزین کیمپوں میں رہنے دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں