عراق کی امریکہ کو ’روس سے مدد نہ لینے کی یقین دہانی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Others
Image caption روس کے مطابق شام میں جاری فضائی حملوں میں اس کو کامیابیاں ملی ہیں

عراقی رہنماؤں نے امریکہ کے سینیئر فوجی کمانڈر جوزف ڈنفورڈ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ روس سے عراق میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی تنظیم کے خلاف فضائی حملوں کی درخواست نہیں کریں گے۔

دوسری جانب برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق حکمراں اتحاد اور طاقتور شیعہ ملیشیا نے وزیراعظم حیدر العبادی پر زور دیا ہے کہ وہ دولتِ اسلامیہ پر حملے کرنے کے لیے روس سے درخواست کریں۔

جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈنفورڈ نے عراقی حکومت سے کہا ہے کہ روس کی عراق میں فضائی مداخلت کی صورت میں امریکہ کے لیے ان کے ملک کی مدد کرنا مشکل ہو جائے گا۔

بشار الاسد شام کا ساتھ دینے پر روس کے شکرگزار

دولتِ اسلامیہ ہے کیا؟

دولتِ اسلامیہ کی دولت

رواں ماہ کے آغاز پر عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے کہا تھا کہ ہمسایہ ملک میں روس کی کامیاب فضائی کارروائیوں کے بعد وہ اپنے ملک میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف روسی کارروائیوں کا خیرمقدم کریں گے۔

جوائنٹ چیفس آف سٹاف چیئرمین کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے عراقی دورے کے بعد کہا کہ جنگ میں حالیہ کامیابیوں سے ان کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

روئٹرز کے مطابق جنرل ڈنفورڈ کے مطابق امریکہ کو عراق سے یہ یقین دہانی حاصل کرنے میں کامیابی ہوئی ہے کہ وہ روس سے فضائی مدد نہیں چاہتا ہے۔

امریکی جنرل کے مطابق عراق کے وزیراعظم اور وزیر دفاع نے انھیں بتایا ہے کہ وہ روسی مدد نہیں چاہتے۔

تاہم روئٹرز نے وزیراعظم حیدر العبادی کے ترجمان سعد الہادی کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’انھوں نے روس سے فضائی حملوں کے بارے میں بات چیت نہیں کی ہے لیکن کسی فریق کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا جو عراق کی مدد کر سکتا ہے۔

دولتِ اسلامیہ نے عراق اور شام کے کئی علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ امریکہ کی کمان میں قائم اتحاد نے گذشتہ برس اگست میں دولتِ اسلامیہ پر فضائی حملے شروع کیے تھے۔

اس کے بعد گذشتہ ماہ روس نے شامی حکومت کی درخواست پر شام میں فضائی حملے شروع کیے تھے۔ روس کا موقف ہے کہ اس کی فضائی کارروائیاں دولتِ اسلامیہ کے خلاف ہیں جبکہ مغربی ممالک کے مطابق ان حملوں میں بظاہر شامی صدر کے مخالفین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں